Main Icon

باب:استبراء کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3339

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْم حُنَيْنٍ: "لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ" يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى، "وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْي حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَى يُقَسَّمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ إِلَى قَوْله: "زَرْعَ غَيْرِهِ".

وعن رويفع بن ثابت الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين: "لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماءه زرع غيره" يعني إتيان الحبالى، "ولا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يقع على امرأة من السبي حتى يستبرئها، ولا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يبيع مغنما حتى يقسم". رواه أبو داود، ورواه الترمذي إلى قوله: "زرع غيره".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رویفع ابن ثابت انصاری سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے حنین کے دن فرمایا ۲؎کہ کسی اس شخص کو جو ااور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ اپنے پانی سے دوسرے کا کھیت سینچے یعنی حاملہ سے صحبت کرنا۳؎اور جو شخص اتعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے یہ حلال نہیں کہ کسی قیدی عورت سے بغیر استبراء کئے صحبت کرے ۴؎اور جو شخص اتعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اسے یہ حلال نہیں کہ تقسیم سے پہلے غنیمت فروخت کرے ۵؎(ابو داؤد)ترمذی نےغیرہتک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎صحابی ہیں، انصاری ہیں، مصریوں میں شمار کیے جاتے ہیں، امیر معاویہ نے انہیں طرابلس الغرب کا حاکم بنایا ۴۰ھ؁ ∞ میں، انہوں نے ۴۷ھ؁ ∞ میں افریقہ پر جہاد کیا ۵۶ھ؁ ∞ میں شام میں وفات پائی۔
۲
؎حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک جنگل کا نام ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا۔
۳
؎یہ تفسیر یا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود فرمائی یا راوی نے کی غیر کی حاملہ سے صحبت کرنا حرام ہے کہ اس میں اپنا نسب مشکوک مخلوط کرنا ہے حمل اگرچہ زنا کا ہو جب بھی صحبت حرام ہے اس لیے حاملہ بالزنا سے نکاح حلال ہے مگر صحبت حرام۔
۴
؎حاملہ ہو یا نہ ہو،اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوا کہ کنواری باکرہ لونڈی سے بھی بغیر استبراء صحبت درست نہیں کیونکہسبیمطلق ارشاد ہوا۔
۵
؎کیونکہ غنیمت تقسیم سے پہلے کسی کی ملک نہیں ہوتی اس وقت اس کی بیع ایک قسم کی خیانت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3339