Main Icon

باب:استبراء کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3338

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ: "لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

عن أبي سعيد الخدري رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال في سبايا أوطاس: "لا توطأ حامل حتى تضع، ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة". رواه أحمد وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کرتے ہیں کہ حضور نے اوطاس کی لونڈیوں کے متعلق فرمایا ۱؎کہ کسی حاملہ سے وطی نہ کی جائے حتی کہ حمل جن دے اور نہ غیر حاملہ سے صحبت کی جائے حتی کہ اسے حیض آجائے ۲؎(احمد،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎جو غزوۂ اوطاس میں گرفتار ہو کر آئی تھیں او طاس مکہ معظمہ سے تین منزل فاصلہ پر ایک جگہ ہے یہ غزوہ فتح مکہ کے فورًا بعد ہوا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ جو لونڈی اپنی ملک میں آئے اگر حاملہ ہو تو حمل جننے تک اس کے پاس نہ جائے اگر غیر حاملہ ہو تو ایک حیض کا انتظار کرے اگر بحالت حیض مالک ہوا تو اس حیض کا اعتبار نہیں اس کے علاوہ ایک اور حیض کا انتظار کرے،اگر اسے کم عمری یا زیادتی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو جمہور علماء کے نزدیک ایک ماہ کا انتظار کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافر زوجین میں سے ایک ہمارے ہاں گرفتار ہو کر آجائے تو نکاح ٹوٹ جائے گا لیکن اگر دونوں گرفتار ہو کر آجائیں تو ان کا نکاح باقی رہے گا اور ہر نئی ملکیت میں استبراء واجب ہوتا ہے مرد سے خریدے یا عورت سے لہذا مکاتبہ جب اپنے کو اداء کتابت سے عاجز کردے یا فروخت کردہ لونڈی جب عیب یا فسخ بیع کی وجہ سے واپس ہوجائے تو بھی اسبتراء کرے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3338