Main Icon

باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3629

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَصَابَ حَدًّا، فَعُجِّلَ عُقُوْبتَهٗ فِي الدُّنْيَا، فَاللّٰهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلٰى عَبْدِهِ الْعُقُوْبَةَ فِي الآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللّٰهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُوْدَ فِيْ شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أصاب حدا، فعجل عقوبته في الدنيا، فالله أعدل من أن يثني على عبده العقوبة في الآخرة، ومن أصاب حدا فستره الله عليه وعفا عنه فالله أكرم من أن يعود في شيء قد عفا عنه". رواه الترمذي وابن ماجه، وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو سزا کو پہنچا ۱؎پھر دنیا میں اسے سزا دے دی گئی ۲؎توتعالٰی اس سے عادل تر ہے کہ اپنے بندے پر آخرت میں سزا مکرر فرمادے ۳؎اور جو سزا کا مستحق ہوا پھرنے اس کی پردہ پوشی فرمالی ۴؎اور اسے معافی دے دی توکریم تر ہے اس سے کہ اس چیز کو لوٹائے جس سے معافی دے چکا۵؎(ترمذی، ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس نے ایسا گناہ کیا جو شرعی حد لازم کرتا ہے جیسے زنا،چوری،شراب خوری،معلول بول کر علت مراد لی گئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ حد سے مراد حرام کام ہو جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوۡھَا"یعنی یہ چیزیںکی محرمات ہیں۔(مرقات)
۲
؎یعنی اس پرشرعی حد قائم کردی گئی۔اشعہ نے فرمایا کہ اس میں حدوتعزیر دونوں داخل ہیں۔
۳
؎کہ جب عادل بادشاہ کسی مجرم کو سزا دے کر دوبارہ سزا نہیں دیتے رب تعالٰی تمام عادلوں سے بڑا عادل ہے وہان شاءاﷲآخرت میں اسے سزا نہ دے گا۔خیال رہے کہ یہ عدل ظلم کا مقابل ہے نہ کہ رحم کا لہذا کہہ سکتے ہیں کہ رب تعالٰی ہم پر رحم کرے عدل نہ کرے ورنہ ہم ہلاک ہو جائیں گے۔
۴
؎اس طرح کہ اس کے جرم پر کسی کو خبردار نہ ہونے دیا اور مجرم کو توبہ مقبول کی توفیق بخش دی لہذا حدیث صاف ہے۔
۵
؎یہ امید افزا کلام اس صورت میں ہے کہ بندہ کی پردہ پوشی ڈھیل دینے کے لیے ہے تو یہ غضب ہے جس کی سزا آخرت میں سخت تر ہے،اگر بندے کو اس پردہ پوشی کے بعد شرمندگی،توبہ کفارہ اداکرنے کی توفیق مل جائے توان شاءاﷲیہ ستر رحمت ہے اور اگر بندہ اس ستر سے غلط فائدہ اٹھائے کہ گناہ پر اور زیادہ دلیر ہوجائے تو یہ ستر غضب ہےتعالٰی توفیق خیر دے۔
دستگیرورہنما توفیق دہ جرم بخش و عفوکن بہ کشا گرہ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3629