Main Icon

باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3626

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَقَالَ: "اضْرِبُوْهُ" فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهٖ، وَالضَّارِبُ بِنَعْلِهٖ، وَالضَّارِبُ بِثَوْبِهٖ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللّٰهُ قَالَ: "لَا تَقُوْلُوْا هٰكَذَا، لَا تُعِيْنُوْا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شرب فقال: "اضربوه" فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف قال بعض القوم: أخزاك الله قال: "لا تقولوا هكذا، لا تعينوا عليه الشيطان". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی لی تو فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض نے اپنے ہاتھ سے مارا بعض نے اپنے جوتے سے اور بعض نے اپنے کپڑے سے پھر جب فارغ ہوئے تو بعض نے کہا کہ تجھےرسوا کرے تو فرمایا یوں نہ کہو اور اس پر شیطان کو مدد نہ دو ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ باب کی دوسری فصل کے آخر میں گزر چکی،اس کی شرح بھی وہاں ہی ہوچکی۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حدود شرعیہ صرف حاکم اسلام ہی قائم کرسکتا ہے نہ خود مجرم اپنے کو سزا دے اور نہ کوئی اور۔دوسرے یہ کہ حاکم جس سے چاہے سزا دلوادے ایک آدمی سے یا ایک جماعت سے، جلاد وغیرہ کا مقررکرنا لازم نہیں،ہاں چور کا ہاتھ اس تجربہ کار سے کٹوائے جو اس کام کو جانتا ہو ورنہ نبض کا خون بہ کر ہلاک ہوجانے کا اندیشہ ہے۔تیسرے یہ کہ سزاءشرعی کے علاوہ مجرم کو برا بھلا کہنا بھی جائز ہے تاکہ شرمندہ ہوکر آئندہ باز رہے۔چوتھے یہ کہ کسی مجرم فاسق گنہگار کو نام لے کر لعنت کرنا یااخزاك اﷲکہنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں شیطان کی خوشی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو بار بار جرم کرتا رہے اور رسوا ہوتا رہے شیطان یہ ہی تو چاہتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3626