Main Icon

باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3628

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيْمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذٰلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كفَّارتُهٗ". رَوَاهُ فِيْ شَرْحِ السُّنَّةِ.

وعن خزيمة بن ثابت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أصاب ذنبا أقيم عليه حد ذلك الذنب فهو كفارته". رواه في شرح السنة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خزیمہ ابن ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو گناہ کو پہنچے اس پر اس گناہ کی سزا قائم کردی جائے تو وہ سزا اس کا کفارہ ہے ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎خزیمہ خ کے پیش ز کے فتحہ سے،آپ انصاری اوسی ہیں،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،پھرحضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک رہے،جب آپ کو حضرت عمار ابن یاسر کی خبرشہادت پہنچی تو بولے عمار کے بعد زندگی بیکار ہے تلوار نکالی میدان میں گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔(اکمال،اشعہ)
۲
؎لہذا جب زانی کو رجم یا چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو یہ سزا اس کے اس جرم کا کفارہ بن گئی مگر قانون شرعی توڑنے کی توبہ کرنی پڑے گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس سے توبہ کرائی،ملکی قانون شکنی کی سزا یہ ہی رجم ہے اور رب تعالٰی کو ناراض کرنے کی معافی کے لیے توبہ ہے لہذا حدیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3628