- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 3627
باب: محدود کو بددعا نہ کی جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3627
مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدَ عَلٰى نَفْسِهٖ أَنَّهٗ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذٰلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ: "أَنِكْتَهَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "حتّٰى غَابَ ذٰلِكَ مِنْكَ فِيْ ذٰلِكَ مِنْهَا؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "كَمَا يَغِيْبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "هَلْ تَدْرِيْ مَا الزِّنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهٖ حَلَالًا، قَالَ: "فَمَا تُرِيْدُ بِهٰذَا الْقَوْلِ؟ " قَالَ: أُرِيْدُ أَنْ تُطَهِّرَنِيْ، فَأَمَرَ بِهٖ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهٖ يَقُوْلُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ: اُنْظُرْ إِلٰى هٰذَا الَّذِيْ سَتَرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهٗ حتّٰى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَكَتَ عَنْهُمَا، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حتّٰى مَرَّ يِجِيْفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهٖ، فَقَالَ: "أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ " فَقَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَقَالَ: "انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيْفَةِ هٰذَا الْحِمَارِ"، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَنْ یَأكُلُ مِنْ هٰذَا؟ قَالَ: "فَمَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيْكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلٍ مِنْهُ، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ إِنَّهُ الآنَ لَفِيْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيْهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
عن أبي هريرة قال: جاء الأسلمي إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم ، فشهد على نفسه أنه أصاب امرأة حراما أربع مرات، كل ذلك يعرض عنه، فأقبل في الخامسة فقال: "أنكتها؟ " قال: نعم قال: "حتى غاب ذلك منك في ذلك منها؟ " قال: نعم قال: "كما يغيب المرود في المكحلة والرشاء في البئر؟ " قال: نعم قال: "هل تدري ما الزنا؟ " قال: نعم، أتيت منها حراما ما يأتي الرجل من أهله حلالا، قال: "فما تريد بهذا القول؟ " قال: أريد أن تطهرني، فأمر به فرجم، فسمع نبي الله صلى الله عليه وسلم رجلين من أصحابه يقول أحدهما لصاحبه: انظر إلى هذا الذي ستر الله عليه، فلم تدعه نفسه حتى رجم رجم الكلب، فسكت عنهما، ثم سار ساعة حتى مر يجيفة حمار شائل برجله، فقال: "أين فلان وفلان؟ " فقالا: نحن ذان يا رسول الله -صلى الله عليه وسلم! فقال: "انزلا فكلا من جيفة هذا الحمار"، فقالا: يا نبي الله! من یأكل من هذا؟ قال: "فما نلتما من عرض أخيكما آنفا أشد من أكل منه، والذي نفسي بيده إنه الآن لفي أنهار الجنة ينغمس فيها". رواه أبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ اسلمی ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی ذات پر چار بارگواہی دی کہ انہوں نے ایک عورت سے حرام کیا ۲؎اس پر ہر دفعہ ان سے حضور منہ پھیرتے رہے۳؎پانچویں بار میں متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تو نے اس سے صحبت کی ۴؎بولے ہاں فرمایا حتی کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ۵؎بولے ہاں فرمایا جیسے سلائی سرمہ دانی میں ۶؎اور رسی کنویں میں غائب ہوجاتی ہے ۷؎بولے ہاں فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ زنا کیا ہے ۸؎فرمایا ہاں میں نے اس سے وہ کام حرام کیا ہے جو خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے ۹؎فرمایا تم اس سے چاہتے کیا ہو عرض کیا یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرمادیں ۱۰؎تب آپ نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۱۱؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ میں سے دو شخصوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اسے تو دیکھو جس کیﷲنے پردہ پوشی فرمائی تھی مگر اس نے اپنے کو نہ چھوڑا حتی کہ کتے کی سنگساری کی طرح رجم کیا گیا ۱۲؎حضور انور اولًا دونوں سے خاموش رہے پھر گھڑی بھر چلے حتی کہ مردار گدھے پرگزرے جو ٹانگ اٹھائے تھا۱۳؎تو فرمایا فلاں فلاں کہاں ہیں وہ بولے یارسولﷲہم یہ ہیں تو فرمایا کہ اترو اور اس مردار گدھے میں سے کھاؤ ۱۴؎انہوں نے عرض کیا یانبیﷲاسے کون کھاتا ہے ۱۵؎فرمایا کہ تم نے جو اپنے بھائی کی آبرو ریزی ابھی کی وہ اس میں سے کھالینے سے زیادہ بری ہے۱۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے ۱۷؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎ماعز ابن مالک اسلمی جن کا واقعہ پہلے بار ہا کچھ فرق کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔
۲؎گواہی سے مراد اقرار ہے کہ یہ اقرار گواہی کے قائم مقام ہے،نیز یہ اقرار چار دفعہ چارجگہ میں تھا جیساکہ پہلے معلوم ہوچکا اور اب بھی آرہا ہے۔
۳؎اس منہ پھیرنے میں چند حکمتیں تھیں:ایک یہ کہ ماعز آپ کے منہ مبارک کی طرف آئے تاکہ یہ اقرار پچھلے اقرار کی جگہ نہ ہو اس کی جگہ بدلی جائے۔دوسرے یہ کہ شاید اب بھی ماعز اقرار سے باز آجائیں اور سزا سے بچ جائیں زنا کے اقرار میں یہ ضروری ہے مگر ماعز پر تو توفیق الٰہی کا رنگ چڑھا ہوا تھا وہ تو بہرحال پاک ہونے جان فدا کرنے آئے تھے۔
۴؎نکتکے معنے پہلے بیان ہوچکے کہ یہنیكسے بنا اجوف یائی بابضرب یضربکا ماضی ہے۔عربی میں یہ لفظ اس کام کے لیے صریحی ہے صحبت جماع وطی وغیرہ کنایہ،چونکہ حد میں صریحی اقرار چاہیے اس لیے حضور انور نے یہ لفظ ارشاد فرمایا۔
۵؎یعنی تیرا آلہ عورت کی فرج میں غائب ہوگیا،مراد حشفہ کا غائب ہونا ہے جس سے غسل فرض ہوجاتا ہے کہ زنا کی سزا کے لیے یہ ہی کافی ہے انزال یا پورا داخل ہونا شرط نہیں۔
۶؎مرودمیم کے کسرہ ر کے جزم واؤ کے فتحہ سے بمعنی سرمہ لگانے کی سلائی۔مکحلہکحلبمعنی سرمہ کا اسم ظرف یعنی سرمہ دانینکتکے بعد یہ تشریح زیادہ وضاحت کے لیے ہے۔
۷؎پہلی مثال کنواری عورت کے لیے ہے دوسری مثال یعنی کنویں میں رسی ثیّبہ عورت کے لیے۔
۸؎یہ تفصیل دریافت فرمانا وطی بالشبہ سے بچنے کے لیے ہے کہ بعض آدمی وطی بالشبہ کو زنا سمجھ لیتے ہیں۔
۹؎اھلقرآن مجید کی اصطلاح میں بیوی کو کہتے ہیں،دیکھو ہماری کتاب فہرست القرآن۔لہذا اس سے بیوی مراد ہے مگر مرقات نے یہاںاھلمیں لونڈی کو بھی داخل فرمایا۔
۱۰؎اس سوال و جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ماعز عرض کردیتے کہ آپ میرے لیے دعا ئے مغفرت فرما دیں تو شاید حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بجائے حد لگانے کے کوئی راہ نکال دیتے۔واﷲ ورسولہ اعلم!۱۱؎اس رجم کا واقعہ بالتفصیل پہلےگزرگیا کہ دوران رجم میں ماعز بھاگ گئے تھے صحابہ کرام نے بمشکل رجم کیا تو فرمایا کہ تم نے چھوڑ دیا ہوتا شاید توبہ اس کی رہائی ہوجاتی۔
۱۲؎اس کلام میں تعجب بھی ہے مردہ کی غیبت بھی اور ماعز کے پر خلوص فعل پر طعنہ بھی،یہ تینوں باتیں ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ زندہ کی غیبت سے مردہ کی غیبت زیادہ بری ہے کہ زندہ سے معافی مانگ سکتے ہیں مگر مردہ سے معافی کیسے مانگیں۔
۱۳؎شاید گفتگو کسی سفر میں ہوئی تھی۔شائل شولسے بنا بمعنی اٹھانا اسی لیے گھڑا اٹھانے والی عورت کو شائلہ کہتے ہیں اور دُم اٹھانے والی اوٹنی کو ناقہ شائلہ کہا جاتا ہے۔شائل پوز کے معنے میں بھی ترمذی شریف میں آیا۔
۱۴؎اترنے اور کھانے کے دونوں حکم اظہار غضب کے لیے ہیں نہ وجوب کے لیے نہ اباحت کے لیے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حرام گدھے کے کھانے کا حضور نے حکم کیوں دیا۔
۱۵؎یہ تو حرام بھی ہے مردار بھی اور طبیعت انسانی بھی اس سے نفرت کرتی ہے۔
۱۶؎کیونکہ گدھا کھانا مجبوری کی حالت میں جائز ہوجاتا ہے جان بچانے کے لیے مگر غیبت کسی حال میں جائز نہیں،نیز بحالت اختیار گدھا کھانا ہلکا گناہ ہے مگر ایسے طیب و طاہر نفس کی غیبت وہ بھی اس کی وفات کے بعد بڑا بھاری گناہ ہے ان وجوہ سے غیبت کو گدھا کھالینے سے سخت تر فرمایا گیا۔
۱۷؎اس سے تین مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ماعزاسلمی شہیدوں کی طرح قیامت سے پہلے یعنی مرتے ہی روحانی طور پر جنت میں داخل ہوگئے وہاں کی نعمتیں استعمال فرما رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ برزخ کا عذاب و ثواب برحق ہے۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم جنت کی نہروں کو بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں اور وہاں غوطے لگانے والے حضرت ماعز کو بھی دیکھ رہے ہیں حضور کی نگاہ سے کوئی چیز مخفی نہیں،جب حضور پر جنت جیسی دور کی دنیا پوشیدہ نہیں تو یقینًا حضور سے ہم اور ہمارے حالات بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتے حضور نے ماعز کو دیکھ کر یہ فرمایا،یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کی نہروں میں جنتی غوطے بھی لگائیں گے مگر لذت کے لیے نہ کہ میل دھونے کو کہ وہاں میل ہے ہی نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3627