Main Icon

باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3728

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهٗ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ وَلَّاهُ اللّٰهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِيْنَ فَاحْتَجَبَ دُوْنَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ، احْتَجَبَ اللّٰهُ دُوْنَ حَاجَتِهٖ وَخَلَّتِهٖ وَفَقْرِهٖ" فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلٰى حَوَائِجِ النَّاسِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهٗ وَلِأَحْمَدَ: "أَغْلَقَ اللّٰهُ لَهٗ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُوْنَ خَلَّتِهٖ وَحَاجَتِهٖ وَمَسْكَنِهٖ".

عن عمرو بن مرة أنه قال لمعاوية: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من ولاه الله شيئا من أمر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم، احتجب الله دون حاجته وخلته وفقره" فجعل معاوية رجلا على حوائج الناس. رواه أبو داود والترمذي، وفي رواية له ولأحمد: "أغلق الله له أبواب السماء دون خلته وحاجته ومسكنه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن مرۃ سے ۱؎کہ انہوں نے حضرت معاویہ سے فرمایا ۲؎میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جسےمسلمین کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمانوں کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے حجاب کردے ۳؎تواس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرمادے گا۴؎چنانچہ حضرت معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرمادیا ۵؎(ابوداؤد،ترمذی) احمد اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہاس کی ضرورت و حاجت و محتاجی کے سامنے آسمان کے دروازے بند فرمادے گا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎مرہمیم کے پیش ر کے شدوفتحہ سے ہے،عمرو ابن مرہ کی کنیت ابو مریم ہے،آپ جہنی ہیں یا ازدی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اکثر غزوات میں شامل رہے،شام میں قیام رکھا،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔
۲
؎جب کہ امیرمعاویہ سلطان بن چکے تھے تاکہ وہ اس حدیث پرعمل کریں۔
۳
؎اس طرح کہ نہ مظلوموں حاجت مندوں کو اپنے تک پہنچنے دے،اپنے دروازے پر سخت پہرہ بٹھادے،نہ ان کی ضروریات کی پرواہ کرے،ان سے غافل رہے،ان کی حاجت روائی کا کوئی انتظام نہ کرے،اپنی حکومت سنبھالنے اپنے عیش و آرام میں منہمک رہے۔
۴
؎یعنی اس سےتعالٰی اپنے ان مجبور بندوں کا بدلہ لے گا کہ اس کی حاجتیں ضرورتیں پوری فرمائے گا،اس کی دعائیں قبول نہ کرے گا،اس سزا کا ظہور کچھ دنیا میں بھی ہوگا اور پورا پورا ظہور آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ حاجت،خلت اور فقر تینوں قریبًا ہم معنے ہیں مبالغہ اور تاکید کیلیے ارشاد ہوئے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حاجت معمولی ضرورت ہے جو انسان کو متفکر توکردے مگر پریشان نہ کرے۔خلت وہ ضرورت ہے جس سے انسان کے کام میں خلل واقع ہوجائے مگر حد بے قراری اضطرار تک نہ پہنچے۔فقر وہ ضرورت ہے جو انسان کے فقرے یعنی کمر توڑ دے حالت اضطرار تک پہنچ جائے جس سے زندگی دو بھر ہوجائے اسی لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فقر سےکی پناہ مانگی ہے۔فقیر و مسکین کا فرق اور اس میں احناف و شوافع کا اختلاف کتب فقہ میں دیکھئے۔ خیال رہے کہ جیسے عادل بادشاہ قیامت میں نور کے منبروں پر ہوں گےتعالٰی سے قریب ہوں گے،ایسے غافل اور ظالم بادشاہ ذلت کے گڑھے میں اور رب تعالٰی سے حجاب میں ہوں گے۔
۵
؎یعنی امیرمعاویہ نے یہ فرمان عالی سن کر ایک محکمہ بنادیا جس کے ماتحت ہربستی میں ایک وہ افسر رکھا گیا جو لوگوں کی معمولی ضرورتیں خود پوری کرے اور بڑی ضرورتیں امیرمعاویہ تک پہنچائے پھر ہمیشہ اس افسر سے باز پرس کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی تو نہیں کرتا۔
۶
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا،چونکہ آسمان میں لوگوں کے رزق بھی ہیں ان کی ضرویات بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ"اس لیے آسمان کے دروازے بند ہونے کا ذکر فرمایا گیا،بہرحال مطلب ایک ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3728