Main Icon

باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3727

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهٗ بِقَدْرِ غَدْرِهٖ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيْرِ عَامَّةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لكل غادر لواء عند استه يوم القيامة". وفي رواية: "لكل غادر لواء يوم القيامة يرفع له بقدر غدره، ألا ولا غادر أعظم غدرا من أمير عامة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر بدعہد غدار کا جھنڈا اس کے چوتڑوں کے پاس ہوگا ۱؎قیامت کے دن اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ہر غدار کا جھنڈا قیامت کےدن اس کی غداری کے مطابق اونچا کیا جائے گا ۲؎ہوشیار رہو کہ عوام کے سلطان کی غداری سے بڑھ کر کوئی غدار(بدعہد)نہیں ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎لواءبہت بلند جھنڈے کو کہتے ہیں اوررأیۃہر جھنڈے کو۔ظاہر یہ ہے کہ یہ جھنڈا اس کی پیٹھ سے ایسا چمٹا ہوگا کہ اس کے ساتھ ساتھ پھرے گا،چوتڑوں کا ذکر اہانت کے لیے ہےاستکا ترجمہ ہے دبر،عزت کا جھنڈا منہ کے سامنے ہوتا ہے ذلت کا جھنڈا پیچھے۔
۲
؎یعنی دنیا میں بدعہدی کی جیسی کیفیت ویسی وہاں جھنڈے کی کمیت و درازی۔معلوم ہوا کہ قیامت میں مجرموں اور ان کے جرموں کی نوعیت بھی قیامت والوں پر عیاں ہوگی۔
۳
؎اس فرمان عالی کے تین معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ سب سے بڑا غدار وہ ہے جو مسلمانوں کی مرضی بغیر ان کا امیر عام بن جائے جیسے متغلب و باغی۔دوسرے وہ بادشاہ بڑا غدار ہے جو مسلمانوں کے حقوق ادا نہ کرے اہل کو بھول جائے نااہلوں کو عہدے سونپے، انہیں آگے بڑھائے،انہیں اہل استحقاق پر مسلط کردے۔تیسرے یہ کہ بڑا غدار وہ شخص کہ جو امیر عام یعنی بادشاہ اسلام سے بدعہدی کرے اس سے کیے ہوئے وعدے پورے نہ کرے،چونکہ ان تینوں قسم کے غداروں کی بدعہدی کا اثر دین،ملک،قوم پر پڑتا ہے۔ان غداروں کا تعلق عام لوگوں سے ہے اس لیے یہ تینوں غدار بدترین غدار اور اول درجے کے بدعہد قرار دیئے گئے،ہمارا ترجمہ ان معنے کا حامل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3727