Main Icon

باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3725

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهٗ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ: هٰذِهٖ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة فيقال: هذه غدرة فلان بن فلان". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بدعہد کے لیے قیامت کے دن جھنڈا گاڑھا جائے گا تو کہا جائے گا کہ یہ فلاں ابن فلاں کی بدعہدی ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل اپنے ظاہری معنے پر ہے۔واقعی بدعہد کے چوتڑوں پر جھنڈا لگا ہوگا یا جہاں بدعہد لوگ کھڑے کیے جائیں گے وہاں ہر ایک کے جھنڈے ہوں گے جن کی بلندی ان کی غداری کے مطابق ہوگی تاکہ ان کی رسوائی ہو۔خیال رہے کہ امت رسولکے چھپے گناہ قیامت میں ظاہر نہ کیے جائیں گے علانیہ گناہوں کا وہاں اعلان ہوگا کہ جب انہوں نے خود ہی اپنے کو رسوا کیا تھا تو اب بھی رسوا ہوں لہذا حدیث واضح ہے یہ کہنے والا یا فرشتہ ہوگا جو اعلان کرتا ہوگا یا خود قیامت والے ہوں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3725