Main Icon

باب :اس کا بیان کہ والیوں پر آسانی کرنا واجب ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3723

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا، وَسَكِّنُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يسروا ولا تعسروا، وسكنوا ولا تنفروا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے آسانیاں کروسختی نہ کرو اور تسکین دو بھڑکاؤ نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میٹھی و نرم باتیں سناکر اسلام کی آسانیاں بتاکر خود سچے پکے مسلمان بن کر دکھا کر رعایا کو تسکین دو، تمہارے عمل ایسے نہ ہوں کہ لوگ اسلام سے ہی بھڑک جائیں۔مقولہ ہے کہ میٹھی زبان میں خرچ کچھ نہیں ہوتا ہے مگر اس سے نفع بہت ہو جاتا ہے، بادشا و حکام کے درست ہوجانے سے لوگ خود بخود درست ہوجاتے ہیںالناس علی دین ملوکھملوگ بادشاہوں کے طریقہ پر ہوتے ہیں،مولویوں کے ہزار وعظ ایک طرف اور سلطان یا حکام کا صرف اچھا عمل ایک طرف،حکام کا عمل بہترین مبلغ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3723