Main Icon

باب:ان تینوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6086

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ نِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَ نِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللّٰهِ وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللّٰهُ بِهٖ نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أري الليلة رجل صالح كأن أبا بكر نيط برسول الله صلى الله عليه وسلم و نيط عمر بأبي بكر و نيط عثمان بعمر» قال جابر: فلما قمنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا: أما الرجل الصالح فرسول الله وأما نوط بعضهم ببعض فهم ولاة الأمر الذي بعث الله به نبيه صلى الله عليه وسلم. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج رات ایک نیک بندے کو خواب دکھایا گیا ۱؎گویا ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ پیوستہ کیے گئے(جوڑے گئے)اور عمر ابوبکر کے ساتھ جوڑے اور عثمان عمر کے ساتھ جوڑے گئے ۲؎حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا کہ نیک بندے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۳؎رہا ان کے بعض کا بعض سے جوڑا جانا یہ وہ خلفاء دین ہیں جس دین کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎رجل صالحسے مراد خود حضور انور کی اپنی ذات بابرکات ہے۔خیال رہے کہصالحیا بنا ہےصلحسے بمعنی نیکی،یا صلاحیت سے بمعنی ہر کمال کی لیاقت و قابلیت یہاں دونوں معنی درست ہیں۔پھر مؤمنین کی صالحیت اور قسم کی اولیاء اللہ کی اور قسم کی،نبیوں کی اور قسم کی،پھر حضور کی صالحیت اور ہی قسم کی ہے۔لفظ صالح ایک ہے مگر درجہ صالحیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔حضرات انبیاء کرام نے دعا کی تھی"تَوَفَّنِیۡ مُسْلِمٌا وَّ اَلْحِقْنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ"۔بتاؤ یہاں صالح کے کیا معنی ہیں جس کی دعا وہ حضرات مانگ رہے ہیں۔
۲
؎یعنی ابوبکر صدیق کے ہاتھ میں میرا دامن پکڑایا گیا اور جناب عمر کے ہاتھ میں صدیق اکبر کا اور حضرت عثمان کے ہاتھ میں فاروق اعظم کا دامن دیا گیا لہذا میرے بعد خلافت صدیقی ہے کہ وہ نبوت سے وابستہ ہے،پھر خلافت فاروقی کے وہ خلافت صدیقی سے وابستہ،پھر خلافت عثمانی جو خلافت فاروقی سے وابستہ ہے۔
۳
؎خیال رہے کہ حضور انور کورجل صالحکہہ کر پکارنا جائز نہیں کہ یہ القاب دوسروں کے لیے بھی بولے جاسکتے ہیں، رب تعالیٰ فرماتاہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا"حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسے القاب سے پکارو جن سے کسی بادشاہ کو بھی نہ پکارو،انہیں یارسول اللہ یا نبی اللہ یا حبیب اللہ جیسے پیارے القاب سے پکارو۔
۴
؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف خواب سنائی تعبیر حضرات صحابہ نے خود دے لی۔معلوم ہوا کہ جب تعبیر بالکل ظاہر ہو تو اسے لوگوں کی فہم پر چھوڑ دینا بھی سنت رسول اللہ ہے صلی اللہ علیہ و سلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6086