Main Icon

باب:ان تینوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6084

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهٗ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهٗ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهٗ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلٰى بَلْوٰى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثمَّ قَالَ: اَلله ُالْمُسْتَعَانُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى الأشعري قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في حائط من حيطان المدينة فجاء رجل فاستفتح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «افتح له وبشره بالجنة» ففتحت له فإذا أبو بكر فبشرته بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحمد الله ثم جاء رجل فاستفتح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «افتح له وبشره بالجنة» . ففتحت له فإذا هو عمر فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله ثم استفتح رجل فقال لي: «افتح له وبشره بالجنة على بلوى تصيبه» فإذا عثمان فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله ثم قال: الله المستعان. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا ۱؎کہ ایک صاحب آئے دروازہ کھولنے کو کہا،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۲؎وہ ابوبکر تھے میں نے انہیں حضور کے فرمان کی بشارت دے دی انہوں نے اللہ کا شکر کیا ۳؎پھر اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھلوایا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۴؎میں نے کھولا تو وہ جناب عمر تھے میں نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے خدا کا شکر کیا پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا مجھ سے حضور نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دو ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی ۵؎میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بولے اللہ مددگار ہے ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حائطدراصل دیوار کو کہتے ہیں پھر اس باغ کو کہہ دیتے ہیں جو چار دیواری سے گھرا ہو یہاں وہی مراد ہے اور حضرت ابو موسیٰ اس باغ کے دروازے پر حضور کے دربان بن بیٹھے تھے حضورانور وسط باغ میں جلوہ افروز تھے۔
۲
؎حضرت ابوبکر صدیق نے دروازہ کھٹکھٹایا ابو موسیٰ اشعری نے عرض کیا یارسول اللہ کوئی صاحب دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں کیا کھول دوں تب یہ فرمایا۔معلوم ہوا حضور انور نے نور نبوت سے یہ بھی دیکھ لیا کہ آنے والے جناب صدیق ہیں اور یہ بھی کہ وہ قطعی جنتی ہیں فرمایا دروازہ بھی کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت بھی دے دو۔
۳
؎اس کا شکر کیا کہ اب میں رجسٹری شدہ جنتی ہوگیا کہ مالک جنت نے مجھے اپنی زبان سے جنتی فرمادیا صلی اللہ علیہ و سلم،جسے حضور انور صرف مسلمان کہہ دیں اس کی تقدیر جاگ جاوے۔
۴
؎یہ ہے حضور انور کی شان بشری حضور انور کی بشارت و نذارت سن کر نہیں بلکہ دیکھ کر ہے جس درجہ کا جو جنتی ہے اس درجہ کی اسے بشارت ہے۔جنت کی بشارت میں حسن خاتمہ،قبر کے سوالات میں کامیابی،حشر میں کامیابی،پل صراط پر خیریت سے گزرنا سب ہی آگیا کیونکہ جنت تو ان چیزوں کے بعد ملے گی،اب ان حضرات کا دوزخی ہونا ایسا ہی ناممکن ہوگیا جیسے دو خدا ہونابالکل ناممکن ہے کیونکہ ہم نے جس زبان سے اللہ کی وحدانیت سنی اسی زبان سے ان کا جنتی ہونا سنا،حضو رکی زبان وہ زبان ہے جس پر خود اللہ تعالٰی کلام فرماتا ہے۔ان کا ہر کلام وحی الٰہی"اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی" ان حضرات کو دوزخی ماننے والا ایسا ہی جہنمی ہے جیسے دو خدا ماننے والا۔
۵
؎یہاںعلیٰبمعنیمعہے یعنی انہیں جنت کی بشارت دو مگر ایک مصیبت عظمیٰ کے ساتھ۔خیال رہے کہ مؤمن کی تکالیف اور مصیبتیں بھی اللہ کی رحمتیں ہوتی ہیں اس لیے اس مصیبت کی بشارت دی گئی۔(مرقات)
۶
؎حضرت عثمان غنی نے دونوں چیزوں پر خدا کا شکر کیا مگر بلا وقفہ پھر اللہ سے مدد مانگی کہ مجھے صبر کی توفیق ملے۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر دفعیہ کی دعا کرنا ممنوع ہے کہ اس میں ایک طرح کی بے صبری ہے۔عبدیت کے اظہار کے لیے ہر وقت دعائیں مانگو مگر امتحان کے موقعہ پر دفعیہ کی دعا نہ کرو بلکہ صبرکر کے پاس ہونے کی کوشش کرو۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسین کی شہادت کی تفصیلی خبر دی تو فرمایااللھم اعط حسینی صبرا جمیلا و اجرا جزیلاخدایا میرے حسین کو صبر جمیل دے اور اجر جزیل یعنی بڑا ثواب دے۔دفعیہ کی دعا نہ کی بچہ کو امتحان سے بچاتے نہیں بلکہ محنت کراکے کامیاب کراتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6084