Main Icon

باب: معراج کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5867

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَّى اللّٰهُ لِيَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهٖ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لما كذبني قريش قمت في الحجر فجلى الله لي بيت المقدس فطفقت أخبرهم عن آياته وأنا أنظر إليه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب قریش نے مجھے جھٹلایا ۱؎تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا الله نے مجھ پر بیت المقدس ظاہر فرمادیا تو میں انہیں وہاں کی خبر دینے لگا حالانکہ میں اسے دیکھ رہاتھا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎قریش کو یقین تھاکہ حضور محمد مصطفےٰ صلی الله علیہ و سلم بیت المقدس کی نشانیاں نہیں بتاسکیں گے ہم کو وہ نشانیاں معلوم ہیں تو ہم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ آپ بیت المقدس گئے ہی نہیں جیسے آپ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ آپ آج رات بیت المقدس گئے تھے ایسے ہی یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ آپ آسمانوں پر گئے تھے۔کذبنیکے یہ ہی معنی ہیں یعنی انہوں نے مجھے جھوٹا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے۔
۲
؎ہم اس کے متعلق ابھی کچھ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ الله تعالٰی نے ساری دنیا حضور انور کے سامنے فرمادی ہے مگر اس کشف کاظہور کبھی کبھی ہوتا ہے،کبھی خِفا جسے صوفیاء کی اصطلاح میں قبض وبسط کہتے ہیں۔جب رب تعالٰی کی طرف سے بسط کا فیض ہوا تو یہ حال ہوگیا کہ کفار وہاں کے نشانات پوچھتے تھے اور حضور انور دیکھ دیکھ کر بتاتے تھے،قبض و بسط کی مثال ایسی ہے جیسے کھیت میں بارش کی تری اور دھوپ کی خشکی،بسط بارش ہے قبض دھوپ،کھیت کے لیے نہ ہمیشہ بارش مفید ہے نہ ہمیشہ خشکی فائدہ مند دونوں ہی چاہئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5867