باب: معراج کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5866
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحَجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أَثْبَتُهَا فَكُرِبْتُ كَرْبًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَهٗ فَرَفَعَهُ اللّٰهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا نَبَّأْتُهُمْ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِذَا مُوسٰى قَائِمٌ يُصَلِّي. فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَإِذَا عِيسٰى قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهٖ شِبَهًا عُرْوَةُ بنُ مَسْعُودٍ الثَّقفيُّ فإِذا إِبْرَاهِيمُ قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهٖ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهٗ - فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ لِي قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ هٰذَامَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وَهٰذَاالْبَابُ خَالٍ عَنِ: الْفَصْلِ الثَّانِي
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لقد رأيتني في الحجر وقريش تسألني عن مسراي فسألتني عن أشياء من بيت المقدس لم أثبتها فكربت كربا ما كربت مثله فرفعه الله لي أنظر إليه ما يسألوني عن شيء إلا نبأتهم وقد رأيتني في جماعة من الأنبياء فإذا موسى قائم يصلي. فإذا رجل ضرب جعد كأنه من رجال شنوءة وإذا عيسى قائم يصلي أقرب الناس به شبها عروة بن مسعود الثقفي فإذا إبراهيم قائم يصلي أشبه الناس به صاحبكم - يعني نفسه - فحانت الصلاة فأممتهم فلما فرغت من الصلاة قال لي قائل: يا محمد هذامالك خازن النار فسلم عليه فالتفت إليه فبدأني بالسلام ". رواه مسلم
وهذاالباب خال عن: الفصل الثاني
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے کو حطیم میں دیکھا ۱؎قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوالات کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی چیزوں کے متعلق سوالات کیے جو مجھے یاد نہ رہی تھیں ۲؎تو میں اتنا غمگین ہوا جتنا کبھی نہ ہوا تھا ۳؎تو الله نے میرے سامنے اسے کردیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے نہ پوچھتے تھے مگر میں انہیں بتا دیتا تھا۴؎اور میں نے اپنے کونبیوں کی جماعت میں دیکھا ۵؎تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے وہ درمیانہ قد گھونگریلے بال والے ہیں گویا وہ شنوءہ کے لوگوں میں سے ہیں ۶؎اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۷؎ان سے قریبًا ہم شکل عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں ۸؎اورا براہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۹؎سب میں زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب یعنی میں ہوں۱۰؎پھر نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انکی امامت کی ۱۱؎پھر جب نماز سے میں فارغ ہوگیا تو مجھ سے کسی کہنے والے نے کہا اے محمد یہ آگ کے خزانچی مالک ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے ان کی طرف توجہ کی تو انہوں نے مجھے سلام کرنے سے ابتداء کی۱۲؎(مسلم)
اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی معراج کے سویرے کو جب ہم نے اپنی معراج کا اعلان کیا ہم حطیم کعبہ میں تھے کہ مشرکین مکہ نے ہم سے سوالات شروع کیے سوالات بھی لایعنی۔
۲؎مثلًا یہ کہ بیت المقدس میں ستون کتنے ہیں،سیڑھیاں کتنی ہیں،منبر کس طرف ہے اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں تو بار بار دیکھنے پر بھی یاد نہیں رہتیں تو ایک بار دیکھنے پر یاد کیسے رہتیں۔کفار نے کہا کہ عرش و کرسی کی باتیں جو آپ بیان کررہے ہیں ان کی تو ہم کو خبر نہیں بیت المقدس ہم نے دیکھا ہوا ہے وہاں کی نشانیاں آپ ہم کو بتائیں اسی لیے رب نے اس معراج کے دو حصے کئے: بیت المقدس تک،پھر وہاں سے عرش کے آگے تک تاکہ لوگ اس حصہ معراج کو بہت دلائل سے معلوم کرلیں۔
۳؎یہ غم اپنے متعلق نہ تھا بلکہ کفار کے متعلق تھا کہ اگر میں نے بیت المقدس کی نشانیاں بیان نہ کیں تو یہ میری معراج نہ مانیں گے اور کافر رہیں گے یہ غم بھی عبادت ہے۔
۴؎خیال رہے کہ حضرات انبیاء کرام پر کبھی تو بسط کی حالت طاری ہوتی ہے تو وہ دنیا کے ذرہ ذرہ کو دیکھتے اس کی خبر رکھتے ہیں اور کبھی قبض کی حالت ہوتی ہے جب اپنے سے بھی بے خبر ہوتے ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیںرایت مشارق الارض ومغاربھااس وقت قبض تھا جب بیت المقدس سامنے آگیا تو یہ وقت بسط کا تھا۔شیخ سعدی فرماتے ہیں؎گہے برطارم اعلٰی نشینیم گہے برپشت پائے خود نہ بینیم
۵؎یعنی ہم معراج میں دوران سفر انبیاءکرام کی قبروں پر گزرے تو موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔حضور انور نے معراج میں چار بار انہیں کو دیکھا اولًا گزرتے ہوئے ان کی قبروں میں انہیں دیکھا،پھر بیت المقدس میں جہاں سب نے حضور کے پیچھے نماز پڑھی،پھرآسمانوں میں اپنے مقامات پر،پھر واپسی معراج میں اپنے مقامات پر یہاں پہلی ملاقات کا ذکر ہے۔معلوم ہوا کہ انبیاءکرام اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں وہ زندہ ہیں مگر یہ نماز تکلیفی نہیں لذت و فرحت کی ہے۔
۶؎شنوءہ یمن کا مشہور قبیلہ ہے،وہ لوگ بڑے خوبصورت ہوتے ہیں،فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھنے کا شوق ہو تو ان لوگوں کو دیکھ لو۔
۷؎غالبًا آپ آسمانوں میں اپنے مقام پر نماز پڑھتے ہوئے حضور کو ملے۔
۸؎عروہ ابن مسعود ثقفی اور ہیں اور عروہ ابن مسعود ہزلی دوسرے ہیں،یہ عبدالله ابن مسعود کے بھائی ہیں اور ثقفی دوسرے ہیں،صحابی ہیں،نہایت حسین تھے۔
۹؎ہوسکتا ہے کہیصلیمیں صلوۃ سے مراد حضور صلی الله علیہ و سلم پر درود شریف ہو یعنی میں نے انہیں اس طرح پایا کہ وہ مجھ پر درود شریف پڑھ رہے تھے۔
۱۰؎یعنی اگر تم کو شوق ہو کہ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھو تو مجھے دیکھ لو میں ان کی ہم شکل ہوں۔
۱۱؎یعنی بیت المقدس میں سارے نبیوں نے میری اقتداء میں نماز پڑھی ہم نے سب کی امامت فرمائی اور ہوسکتا ہے کہ بیت المعمور والی نماز کی امامت مراد ہو جہاں حضور نے فرشتوں کو نماز پڑھائی۔خیال رہے کہ حضور کو نماز تو عرش پر پہنچ کر ملی مگر اس سے پہلے ہی نبیوں فرشتوں کو نماز پڑھائی۔معلوم ہوا کہ امت کے لیے نماز عرش پر ملی حضور کو پہلے ہی مل چکی تھی۔
۱۲؎اس آخری جملہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ نماز وہ ہے جو حضور انور نے بیت المعمور میں فرشتوں اور نبیوں کو پڑھائی کیونکہ یہاں ارشاد ہے کہ نماز سے فارغ ہوتے ہی داروغہ دوزخ مالک سے ملاقات ہوئی۔خیال رہے کہ ان تمام حضرات نے آج حضور کے پیچھے محمدی نماز پڑھی تھی انبیاءکرام نے اپنی اپنی نمازیں نہیں پڑھی تھیں۔سارے انبیاءکرام اور فرشتے حضور کے امتی ہیں یعنی قانونی طور پر حضور صلی الله علیہ و سلم مالک کو سلام فرماتے کیونکہ آنے والا سلام کیا کرتا ہے مگر خازن دوزخ نے حضور انور کا احترام کرتے ہوئے پہلے ہی سلام عرض کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5866