باب: معراج کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5865
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهٖ إِلٰى سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهٖ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهٖ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ:إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى. قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: فَأُعْطِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا: أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحَمَاتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن عبد الله قال: لما أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي في السماء السادسة إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها قال:إذ يغشى السدرة ما يغشى. قال: فراش من ذهب قال: فأعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا: أعطي الصلوات الخمس وأعطي خواتيم سورة البقرة وغفر لمن لا يشرك بالله من أمته شيئا المقحمات. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالله سے ۱؎فرمایا جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا یہ چھٹے آسمان میں ہے ۲؎جو چیزیں زمین سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں اور جو چیزیں اوپر سے اتاری جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں ۳؎فرمایا کہ اچانک سدرہ پر چھاگئی جو چھاگئی فرمایا وہ سونے کے پتنگے تھے۴؎پھر فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تین چیزیں دی گئیں آپ کو پانچ نمازیں دی گئیں اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات دی گئیں ۵؎اور آپ کی امت میں سے جو الله کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ان کے گناہ بخشے گئے ۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎حدیث اور فقہ میں جب عبدالله بغیر قید آتا ہے تو حضرت عبدالله ابن مسعود مراد ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی حضرت عبدالله ابن مسعود نے فرمایا۔
۲؎بعض روایات میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان میں ہے جیساکہ مالک ابن صعصعہ کی روایت میں ابھی کچھ پہلے گزرا مگر ان دونوں روایتوں میں مخالفت نہیں اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے شاخیں ساتویں آسمان میں،یہاں جڑ کا ذکر ہے وہاں شاخوں کا تذکرہ تھا اس کی شاخوں کا سایہ تمام آسمانوں اور جنت میں ہے۔(مرقات)یہ ہی بات بہت قوی ہے۔
۳؎جیسے دو ملکوں کی ڈاک کا تبادلہ باڈر یعنی سرحد پر ہوتا ہے اگرچہ دونوں ملکوں کا بادشاہ ایک ہی ہو۔سدرہ سے آگے ہمارے حضور کے سواء کوئی نہیں گیا بلکہ حضور تو اس جگہ گئے جہاں جگہ بھی نہیں وہاں نہ جہاں ہے نہ یہاں نہ وہاں؎برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں اسریٰ بعبدہ است من المسجد الحرام
تاعرصۂ وجوب کہ اقصاء عالم است کانجانہ جا است ونے جہت ونے شان و نام
۴؎یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے بیان میں جو آیت کریمہ"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"وارد ہے اس کی تفسیر حضور انور نے پتنگوں سے کی۔پتنگے یا تو فرشتے ہیں یا ارواح انبیاء جو پتنگوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ اس بیری کے ہر پتہ پر فرشتوں کی فوجیں ہیں،بزرگوں کی روحیں اور سبز رنگ کے غیبی پرندے اور رنگ برنگے انوار لہذا احادیث میں تعارض نہیں کہیں کسی چیز کا ذکر ہے کہیں کسی اور چیز کا۔اس سے پہلے گزرا کہ حضور نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ وہاں کیا چیزیں ہیں وہاں حضور انور کے علم کی نفی مقصود نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ تمہیں وہ چیزیں کیسے بتاؤں سمجھاؤں وہ بیان میں نہیں آسکتیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔میں ان کے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں پاتا،یوں ہی رب کا فرمانا:"اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی"اس کا مطلب یہ نہیں کہ رب کو بھی خبر نہیں کہ سدرہ پر کون سی چیز چھا گئی تھی مطلب یہ ہی ہے کہ اس کا بیان نہیں ہوسکتا جیسے رب فرماتاہے: "فَغَشِیَهُمۡ مِّنَ الْـیَمِّ مَا غَشِیَهُمْ"بہرحال اس قسم کے فرمان کا منشا بے خبری نہیں۔(مرقات)
۵؎یا تو سورۂ بقرہ کی آخری آیات معراج کی رات بھی حضور کو عطا کی گئیں اور بعد ہجرت بھی نازل کی گئیں،پہلی عطا بغیر واسطہ فرشتہ ہوئی اور دوبارہ نزول بواسطہ فرشتہ ہوا،یا یہ مطلب ہے کہ ان دعاؤں کی قبولیت وہاں عطا کی گئی جو ان آیات میں تعلیم کی گئی ہے حضور سے وعدہ کرلیا گیا کہ جو بھی یہ دعائیں ہم سے مانگے گا ہم اسے عطا کریں گے،یا مطلب یہ ہے کہ ان آیات کے فیوض ان کے انوار ان کی برکتیں جو شمار سے باہر ہیں حضور کو اس رات عطا کی گئیں۔(مرقات،اشعہ)ہوسکتا ہے کہ یہ تمام چیزیں مراد ہوں ان آیات کے الفاظ،قبولیت،انوار برکات سب کچھ اس رات حضور کو عطا ہوئیں،یہ آیات"اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ"سے لے کر"فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"تک ہیں۔
۶؎شرک بالله سے مراد مطلقًا کفر ہے یعنی کفر تو نہیں بخشا جاوے گا اس کے علاوہ سارے گناہ قابل بخشش ہیں،ہاں حقوق العباد خود حق والوں سے معاف کرائے جاویں گے جن کی تین نوعیتیں ہوں گی۔قرآن کریم میں قریبًا ہر جگہ شرک بمعنی کفر آتا ہے"لَا تُنۡكِحُوا الْمُشْرِكِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡ"۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5865