Main Icon

باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3302

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعَتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ نَحْوَهُ مُسْنَدًا وَمُرْسَلًا، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: المُرْسَلُ أَوْلَى بالصَّوابِ مِنَ الْمُسْنَدِ.

عن عكرمة، عن ابن عباس: أن رجلا ظاهر من امرأته فغشيها قبل أن يكفر، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم ، فذكر ذلك له، فقال: "ما حملك على ذلك؟ " قال: يا رسول الله! رأيت بياض حجليها في القمر، فلم أملك نفسي أن وقعت عليها، فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأمره أن لا يقربها حتى يكفر. رواه ابن ماجه وروى الترمذي نحوه، وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب، وروى أبو داود والنسائي نحوه مسندا ومرسلا، وقال النسائي: المرسل أولى بالصواب من المسند.

حدیث ترجمہ

ر وایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎وہ ابن عباس سے راوی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر کفارہ دینے سے پہلے اس سے صحبت کرلی ۲؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ حضور سے عرض کیا فرمایا تجھے اس پر کس چیز نے انگیخت کی ۳؎عرض کیا یارسول امیں نے چاندنی میں اس کے جھانجنوں کی سفیدی دیکھی تو اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکا۴؎کہ اس سے صحبت کر بیٹھا تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ہنسے ۵؎اور اسے حکم دیا کہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائے حتی کہ کفارہ دے دے ۶؎ابن ماجہ اور ترمذی نے اس کی مثل اور فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۷؎اور ابو داؤد،و نسائی نے اس کی مثل روایت کی اسنادًا بھی اور ارسالًا بھی نسائی نے فرمایا کہ بمقابلہ مسند کے مرسل زیادہ قریب صواب ہے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎پہلے کہا جاچکا ہے کہ یہ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں بلکہ حضرت عبداابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں تابعین میں سے ہیں۔
۲
؎یعنی ظہار کرنے والا اپنی مظاہرہ بی بی سے کفارہ سے پہلے صحبت نہیں کرسکتا مگر اس نے کرلی اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا،پتہ نہ چلا کہ یہ صحابي4 کون تھے۔
۳
؎یہ سوال یا تو محض تحقیق واقعہ کے لیے ہے یا مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ مظاہر ظہار کے بعد کفارہ سے پہلے اسباب جماع سے بھی احتیاط رکھے۔
۴
؎بعض روایات میں ہے کہ اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی تو میں شہوت سے بے قابو ہوگیا مگر ان دونوں روایتوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ پنڈلی کی سفیدی اور جھانجن کی چمک بیک وقت دیکھی جاسکتی ہے۔حجلح کے فتحہ اور پیش سے بمعنی جھانجن عورتوں کے پاؤں کا مشہور زیور جسے خلخال بھی کہتے ہیں۔اس جواب میں اس طرف اشارہ ہے کہ میں نے اسباب جماع خود نہ جمع کیے تھے بوس و کنار نہ کیا تھا اتفاقًا ایسا ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ بیمار طبیب سے مرض نہ چھپائے۔
۵
؎اس پر ملامت نہ فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ اس کا یہ عذر قبول فرما لیا۔
۶
؎اس سے فقہاء کا یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر مظاہر کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر بیٹھے تو اس پر ایک ہی کفارہ ظہار کا واجب ہوگا دو یا تین کفارے واجب نہ ہوں گے،یہ بھی معلوم ہوا کہ اس جماع کے بعد بھی اس پر آئندہ صحبت کرنا ممنوع ہوگا جب تک کہ کفارہ نہ دے لے۔
۷
؎یعنی یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے بعض اسنادوں میں حسن ہے بعض میں صحیح بعض میں غریب۔
۸
؎یہاں اسناد و ارسال سے مراد یا تو حضرت عکرمہ کا ارسال و اسناد ہے کہ کبھی انہوں نے حضرت ابن عباس کا ذکر کیا کبھی نہ کیا یا حضرت ابن عباس کا ارسال و اسناد مراد ہے کہ بعض روایات میں حضرت ابن عباس نے یہ واقعہ اور صحابی سے نقل فرمایا وہاں اسناد ہوگئی،بعض میں ان صحابی کا ذکر نہ فرمایا یہ ارسال ہوا۔ارسال صحابی کا بھی ہوتا ہے اور تابعی کا بھی۔(مرقات)خیال رہے کہ اسلام میں سب سے پہلے ظہار اوس ابن حاجب نے اپنی بیوی خولہ بنت خویلہ ابن مالک سے کیا اور خولہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئیں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی"قَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِیۡ تُجٰدِلُکَ فِیۡ زَوْجِہَا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3302