Main Icon

باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3300

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَرَوٰى أَبُو دَاوُدَ، وابنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، عَن سُلَيْمَانَ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: كُنْتُ امْرأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي، وَفِي رَوايَتِهِمُا أَعْنِي أَبَا دَاوُدَ وَالدَّارِمِيَّ: "فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكينًا".

وروى أبو داود، وابن ماجه والدارمي، عن سليمان ابن يسار، عن سلمة بن صخر نحوه، قال: كنت امرأ أصيب من النساء ما لا يصيب غيري، وفي روايتهما أعني أبا داود والدارمي: "فأطعم وسقا من تمر بين ستين مسكينا".

حدیث ترجمہ

بروایت سلیمان ابن یسار عن سلمہ ابن صخر ۱؎اس کی مثال روایت فرماتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا کہ عورتوں سے اس قدر صحبت کرتا تھا کہ میرے سوا کوئی نہ کرتا ۲؎اور ان دونوں یعنی ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے کہ ایک و سق چھوارے ساٹھ مسکینوں کو دو ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎مگر سلیمان ابن یسار نے سلمہ ابن صخربیاضی سے ملاقات نہیں کی ہے لہذا اس اسناد میں یہ حدیث مرسل کی طرح ہوگی کوئی راوی درمیان میں رہ گیا ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی یہ واقعہ کی نصف رمضان کو ہی صحبت کر بیٹھا یا یہ کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میں ساٹھ روزے اور دو ماہ صحبت سے خالی نہیں رکھ سکتا اسی لیے ہوا کہ مجھے بمقابلہ دوسرے مردوں کے شہوت اور طاقت جماع بہت زیادہ تھی بغیر بیوی رہ نہ سکتا تھا۔
۳
؎یہ حدیث گزشتہ اجمال کی تفصیل ہے وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے فی فقیر ایک صاع چھوارے دینا لازم ہے یہ ہی فقہاء فرماتے ہیں پھر پندرہ سولہ صاع دلوادینا ان کی خصوصیت ہے،قانون اور ہے کرم خسروانہ کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3300