Main Icon

باب:حدود میں سفارش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3613

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَفِي نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ" عَنْ أَبِي رِمْثَةَ بِالرَّاءِ وَالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ بَدَلَ الْهَمْزَةِ وَالْيَاءِ.

وفي نسخ "المصابيح" عن أبي رمثة بالراء والثاء المثلثة بدل الهمزة والياء.

حدیث ترجمہ

اور مصابیح کے نسخوں میں ابو رمثہ سے ہے رے اور تین نقطی ث سے بجائے ہمزہ اور ی کے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ باب تیسری فصل سے خالی ہے۔خیال رہے کہ اس پر تو تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے جب کہ چوری کے تمام شرائط پائے جائیں،اس میں اختلاف ہے کہ چور سے مال کا تاوان بھی لیا جائے گایا نہیں ،ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر مسروقہ مال چور کے پاس موجود ہے تو مالک کو دلوا دیا جائےگا اور اگر مال اس کے پاس سے جاتا رہا یا اس نے خرچ یا ضائع کردیا تو ضمان واجب نہیں صرف ہاتھ کاٹنا سزا کافی ہے،دوسرے اماموں کے ہاں مال کا تاوان بھی دلوایا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ہے جو نسائی نے بروایت عبدالرحمن ابن عوف نقل کی کہ جب چوری والے پر حد قائم کردی جائے تو اس پر تاوان نہیں اور دار قطنی کے یہ الفاظ ہیںلاغرم علی السارق بعد قطع یمینہٖاور بزاز نے روایت کیلایضمن السارق سرقۃ بعد اقامۃ الحدرب تعالٰی فرماتاہے:"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا"ما کسبامیںماعام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دینا اس کے سارے جرموں کی سزا ہے چوری کی بھی اور مال ضائع کرنے کی بھی۔(مرقات و ہدایہ و کتب اصول)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3613