Main Icon

باب:حدود میں سفارش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3611

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللّٰهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللّٰهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ لِلْبَيْهَقِيِّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ": "مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخَطِ اللّٰهِ حَتَّى يَنْزِعَ".

عن عبد الله بن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله، ومن خاصم في باطل وهو يعلمه لم يزل في سخط الله تعالى حتى ينزع، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال رواه أحمد وأبو داود، وفي رواية للبيهقي في "شعب الإيمان": "من أعان على خصومة لا يدري أحق أم باطل فهو في سخط الله حتى ينزع".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کی سفارش اﷲکی حدوں میں سے کسی حد کے لیے آڑ بن جائے تو اس نے اﷲتعالٰی کا مقابلہ کیا ۱؎اور جو باطل چیز میں جانتے ہوئے جھگڑے وہ اﷲکی ناراضی میں رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے گا ۲؎اور جوکسی مسلمان میں برائی بیان کرے جو اس میں نہیں ہے تو اﷲاسے کچ لہو میں رکھے گا ۳؎حتی کہ اپنے کہے سے نکل جائے۴؎(احمد،ابوداؤد)اور بیہقی کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جو کسی جھگڑے میں مددکرے نہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اﷲکی ناراضی میں رہے گا حتی کہ نکل جائے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر سفارشی نے ایسے حالات پیدا کردیئے جس سے شرعی حد قائم نہ ہوسکی تو یہ سفارشی اﷲکا دشمن ہے اور اگر حاکم نے سفارش قبول کرکے مجرم کو چھوڑ دیا تو سفارشی اور حاکم دونوں اﷲتعالٰی کے دشمن ہیں پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ بادشاہ یا وزیر کسی مجرم کی سفارش کرکے حاکم کو چھوڑ دینے پر مجبور کرے اور حاکم چھوڑنا تو نہ چاہتا تھا مگر ان کے دباؤ سے مجبور ہوگیا تب یہ حکم ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے چھوڑانے والے سفارشی کا ذکر فرمایا چھوڑنے والے حاکم کا ذکر کیوں نہ فرمایا۔
۲
؎یہ فرمان عالی بہت وسیع ہے جھوٹے مقدمہ باز،جھوٹے مناظر،جھوٹے جھگڑالو سب ہی اس میں داخل ہیں۔ رب تعالٰی ہدایت دے اگر اس حدیث پر عمل ہوجائے تو مقدمہ بازیاں مناظرے سب ہی ختم ہوجائیں۔
۳
؎ردغۃ الخبالر کے فتحہ،دال کے سکون اور خ اور ب کے فتحہ سے کچا پیپ جسے اردو میں کچلہو کہتے ہیں۔اس سے مراد دوزخ کا وہ مقام ہے جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوتا ہے۔
۴
؎یعنی دنیا میں جتنے روز تک یہ مسلمان بھائی کو عیب لگاتا رہا اتنے روز تک جہنم کے اس طبقہ میں رکھا جائے گا کہ وہاں رہے گا اور یہ کچلہو ہی پیئے گا۔اﷲکی پناہ!
۵
؎یہ فرمان عالی پہلے فرمان سے زیادہ سخت ہے کہ وہاں باطل پر جھگڑے کا ذکر تھا اور یہاں جس کے متعلق حق ہونے کا یقین نہ ہو باطل ہونے کا شبہ ہو اس میں جھگڑے والے کی مدد کرنے پر وعید ہے یعنی اگر کوئی شخصی کسی مسئلہ یا کسی چیز پر دوسرے سے جھگڑ رہا ہے تم کو یہ پتہ نہ چلا کہ یہ حق پر ہے یا باطل پر تم نے اس کی اندھا دھند مدد کی تو تم بھی غضب الٰہی میں آگئے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو محض قومیت پر دوسروں سے لڑتے ہیں،اپنے ہم قوم کی جھوٹ و ظلم پر مدد کرتے ہیں،نیز وہ بیرسٹرو وکیل عبرت پکڑیں جو کچھ روپیہ کے لیے ظلم کی حمایت وکالت کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3611