Main Icon

باب:حدود میں سفارش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3612

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَقْ أَبِي أمُيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ"، قَالَ: بَلَى فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ وَتُبْ إِلَيْهِ" فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، هَكَذَا وَجَدْتُ فِي الأُصُولِ الأَرْبَعَةِ وَ"جَامِعِ الأُصُولِ" وَ"شُعَبِ الإِيمَانِ" وَ"مَعَالِم السُّنَنِ" عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ.

وعق أبي أمية المخزومي: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بلص قد اعترف اعترافا، ولم يوجد معه متاع، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ما أخالك سرقت"، قال: بلى فأعاد عليه مرتين أو ثلاثا كل ذلك يعترف، فأمر به فقطع، وجيء به فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : "استغفر الله وتب إليه" فقال: أستغفر الله وأتوب إليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "اللهم تب عليه" ثلاثا. رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي، هكذا وجدت في الأصول الأربعة و"جامع الأصول" و"شعب الإيمان" و"معالم السنن" عن أبي أمية.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امیہ مخزومی ۱؎سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے صریحی اقرار کر لیا تھا اور اس کے پاس سامان پایا نہ گیا ۲؎تو اس سے فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تیرے متعلق خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ۳؎ہو وہ بولا ہاں حضور نے دو یا تین بار اس سے فرمایا وہ ہر بار اقرار ہی کرتا رہا تو حکم دیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۴؎اور اسے لایا گیا تو اس سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے معافی مانگ اور توبہ کر،بولا میں اسے معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے تین بار فرمایا الٰہی اس کی توبہ قبول فرمالے ۵؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)میں نے چاروں اصول اور جامع اصول شعب الایمان اور معالم السنن میں یوں ہی پایا ۶؎بروایت ابو امیہ

شرح حدیث

۱؎آپ صحابی ہیں،آپ کا نام معلوم نہ ہوسکا صرف کنیت میں مشہور ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آپ سے ابوذر غفاری مولیٰ ابو المنذر نے روایت کی رضی اللہ عنہم۔(مرقات واشعہ)
۲
؎لُصلام کے پیش یا کسرہ سےصکے شد سے یعنی ایک ایسا شخص آپ کی خدمت میں صحابہ کرام لائے جس کی چوری پر کوئی گواہ نہ تھا نہ چوری کی علامت یعنی مسروقہ مال اس کے پاس تھا لوگوں کے سامنے اس نے چوری کا اقرار کرلیا تھا اس بنا پر اسے بارگاہ عالی میں حاضر کیا گیا۔
۳
؎اخالہمزہ کے کسرہ سے ہے،اصل میںاخالہمزہ کے فتحہ سے تھا،خال یخالخیالسے بناسمع یسمعسے یعنی ہم کو تیرے متعلق یہ خیال نہیں کہ تو نے چوری کی ہو تجھے دھوکا لگا ہے۔
۴
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی رحمۃ اعلیہ کا ایک قول یہ ہے کہ اقرار زنا کی طرح چوری کے اقرار میں بھی بار بار اقرار کرایا جائے اور اگر یہ چور بھی اقرار کے بعد رجوع کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا دیگر اماموں یعنی امام اعظم امام مالک امام محمد بلکہ خود امام شافعی کے ایک قول میں صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹے گا،امام احمدوامام ابویوسف کے نزدیک صرف اقرار سے ہاتھ نہیں کٹتا،امام اعظم وغیرہم کی دلیل وہ حدیث ہے جو طحاوی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ حضور انور نے صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹوایا۔اس حدیث میں جو تعدد کا ذکر ہے وہ چوری کے معنے تحقیق کے لیے ہے کہ کبھی چور غلطی سے خیانت وغیرہ کو چوری سمجھ رہا ہو۔واﷲ اعلم!(مرقات)
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کاٹنے کے بعد چور سے توبہ بھی کرائی جائے کیونکہ ہاتھ کٹ جانا تو شرعی جرم کا کفارہ ہوا اتعالٰی کی نافرمانی کی معافی توبہ سے ہوگی۔
۶
؎یعنی ان کتب میں یہ حدیث ابو امیہ سے مروی ہے نہ کہ ابو رمثہ سے۔خیال رہے کہ جامع اصول السنہ امام ابن اثیر کی مشہور کتاب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3612