- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2559
باب :وداعی حج کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2559
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهٗ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلٰكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلٰى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيْرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهٖ كأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى قَوْلِهٖ بِيَدِهٖ يُحَرِّكُهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تُحِلُّوْا وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحَلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهٖ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهٖ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدٰى لَهٗ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ: "لِأَبَدٍ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ
عن عطاء قال: سمعت جابر بن عبد الله في ناس معي قال: أهللنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم بالحج خالصا وحده قال عطاء: قال جابر: فقدم النبي صلى الله عليه وسلم صبح رابعة مضت من ذي الحجة فأمرنا أن نحل قال عطاء: قال: «حلوا وأصيبوا النساء» . قال عطاء: ولم يعزم عليهم ولكن أحلهن لهم فقلنا لما لم يكن بيننا وبين عرفة إلا خمس أمرنا أن نفضي إلى نسائنا فنأتي عرفة تقطر مذاكيرنا المني. قال: يقول جابر بيده كأني أنظر إلى قوله بيده يحركها، قال: فقام النبي صلى الله عليه وسلم فينا، قال: «قد علمتم أني أتقاكم لله وأصدقكم وأبركم ولولا هديي لحللت كما تحلوا ولو استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي فحلوا» فحللنا وسمعنا وأطعنا قال عطاء: قال جابر: فقدم علي من سعايته فقال: بم أهللت؟ قال بما أهل به النبي صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فأهد وامكث حراما» قال: وأهدى له علي هديا فقال سراقة بن مالك بن جعشم: يا رسول الله ألعامنا هذا أم لأبد؟ قال: "لأبد".رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی لوگوں کی جماعت میں حضرت جابر بن عبداللّٰه کو سنا فرماتے تھے ۱؎کہ ہم محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خالص حج کے لیے احرام باندھا ۲؎عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم چاربقرعید کی تاریخ کی صبح مکہ معظمہ پہنچے تو ہم کو کھل جانے کا حکم دیا عطا کہتے ہیں کہ فرمایا حلال ہوجاؤ،عورتوں سے صحبت کرو ۳؎عطا کہتے ہیں صحبت ان پر واجب نہ کی لیکن ان کے لیے عورتیں حلال فرمادیں ۴؎ہم نے سوچا کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم کو بیویوں کے پاس جانے کی اجازت دے دی تو کیا ہم عرفہ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ۵؎راوی کہتے ہیں حضرت جابر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے گویا میں ان کا ہاتھ ہلتا دیکھ رہا ہوں ۶؎فرماتے ہیں تو ہم میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللّٰه سے ڈرنے والا سب سے زیادہ سچا اور نیک اعمال ہوں ۷؎اگر میری ہدی نہ ہوتی تو جیسے تم حلال ہورہے ہو میں بھی حلال ہوجاتا اور جو بات بعد میں کھلی اگر پہلے سے ہم جانتے تو ہدی لاتے ہی نہیں ۸؎لہذا حلال ہوجاؤ چنانچہ ہم حلال ہوگئے ہم نے آپ کا حکم سنا اور بجا لائے ۹؎عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے کہا پھر حضرت علی اپنے دارالعمالہ سے آئے ۱۰؎حضور انور نے پوچھا کون سا احرام باندھا عرض کیا وہ جو اللّٰه کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے باندھا حضور نے فر مایا ہدی ذبح کرو اور احرام میں ٹھہرو حضرت علی ہدی لائے تھے ۱۱؎حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم نے عرض کیا یارسول اللّٰه کیا یہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے ۱۲؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام عطاء ابن ابی رباح ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،مکہ معظمہ کے رہنے والے ساتھیوں کی جماعت کا ذکر قوت استدلال کے لیے کیا یعنی میں نے اکیلے یہ حدیث نہ سنی اس کے سننے والے دوسرے لوگ بھی ہیں۔
۲؎اکثر صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے یا ہدی نہ لے جانے والے صحابہ نے حج کا احرام باندھا یا حضرت جابر نے اپنے اندازے سے یہ فرمایا ورنہ بہت سے صحابہ نے صر ف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔خیال رہے کہ یہاں صحابہ کا ذکر ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تو قران کیا تھا جیسے کہ پہلے عرض کیا گیا،بہرحال یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔
۳؎یعنی پورے حلال ہوجاؤ جس میں بیوی سے صحبت بھی جائز ہےاس موقعہ پرکھل جانے کاحکم تو وجوبی تھا اور صحبت کا حکم اباحت کا،زیادہ سے زیادہ استحباب کا بہرحال دونوں حکم یکساں نہیں ہیں۔
۴؎علماء فرماتے ہیں کہ اگرچہ امر اباحت کا تھا مگر اس وقت ان لوگوں پر اپنی بیویوں سے صحبت مستحب ہوچکی تھی کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا حکم تھا۔
۵؎یہ کہنا یا سوچنا انکار کے لیے نہ تھا بلکہ حیرت کے لیے تھا جیساکہ فرشتوں نے خلیفہ الٰہی کا اعلان سن کرعرض کیا تھااَتَجْعَلُ فِیْھَا،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ نبی کے فرمان کا انکار تو کفر ہے،چونکہ یہ عمل صدیوں کے مروجہ عقیدے و عمل کے خلاف تھا اس لیے انہیں حیرت ہوئی اس کا پہلے سے اعلان ہوا کبھی نہ تھا اچانک حکم پہنچا۔
۶؎یہ حضرت عطاء کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے یہ کلام ہاتھ ہلاکر کیا جیساکہ عادتًا بات کرتے ہیں ہاتھ ہلاتے جاتے ہیں یا بقیہ مدت کی کمی بیان کر نے کے لیے ہاتھ ہلایا کہ جب اتنی سی رتی بھر گھڑیاں باقی رہ گئیں عرفہ کا دن بالکل قریب ہی آگیا تو صحبت حلال کی گئی،بعض شارحین نے فرمایا کہ ہاتھ کی حرکت ذکر کر کے منی ٹپکانے کی طرف اشارہ ہے مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا،ورنہ پھر انگلی ہلائی جاتی نہ کہ ہاتھ،پہلی دو توجیہیں بہت قوی ہیں۔ (مرقات)
۷؎سرکار کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی درستی میں کچھ شبہ نہ ہوا تھا نہ انہیں قبول حکم سے سرتابی تھی،صدیوں کے عقیدے کے خلاف پر تعجب تھا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کا شوق تھا کیونکہ حضور عالی خود حلال نہ ہوئے تھے تو گویا اس وقت حلال نہ ہونا انہوں نے سنت جانا حلال ہوجانا بالکل ناجائز مانا،شوق تھا کہ افضل پر عمل کریں لہذا اس سے روافض دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۸؎اس جملہ نے معاملہ صاف کردیا کہ صحابہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اتباع کا شوق تھا نہ کہ حکم سے سرتابی اگر مجھے تمہارے اس شوق کا پہلے سے اندازہ ہوتا تو میں بھی نہ لاتا اور تمہارے ساتھ میں بھی حلال ہوجاتاتاکہ تمہیں حلال ہونے میں تکلف نہ ہوتا۔خیال رہے کہلَوْ اِسْتَقْبَلْتُسے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے علم کی نفی نہیں ہوتی،یہاں ظہور واقعہ مراد ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہ فِیۡھِمْ خَیۡرًا"یا جیسے"وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ"الخ اب تک رب نے انہیں نہ جانا یا یہ کلام اظہار افسوس کے لیے ہوتاہے کہ اگر ہمیں پہلے سے یہ اندازہ ہوتا کہ تمہیں اتباع سنت کا اتنا شوق ہے تو ہم بھی ہدی نہ لاتے۔
۹؎اس سے معلوم ہوا کہ جب حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے قول و عمل میں تعارض ہو تو قول کو ترجیح ہوتی ہے کہ عمل میں خصوصیت کا احتمال ہے،یہ احناف کا مذہب ہے صحابہ کرام نے اطاعت خوشی سے کی نہ کہ ناراضگی سے،جو کچھ تامّل تھا وہ پہلے ہی ظاہرکر دیا۔اس لیے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یہ اطاعت منافقت سے تھی۔
۱۰؎اس موقعہ پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ یمن کے ساعی تھے جو صدقات وصول فرمانے وہاں تشریف لے گئے تھے،غالبًا اس گفتگو کے بعد حضرت علی یمن سے یہاں پہنچے۔
۱۱؎یعنی تم بھی ہماری طرح قارن ہو اورتمہارے ساتھ بھی ہماری طرح ہدی ہے لہذا تم بھی احرام نہ کھولو حج سے فارغ ہوکر کھولنا۔
۱۲؎یعنی تا قیامت حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا درست ہوگیا وہ دستورختم کردیا گیا کہ شوال سے صفر تک عمرہ حرام ہو مگر حج کا فتح صرف اس سال کے لیے تھا آئندہ کبھی جائز نہ ہوگا۔یہ اشارہ جواز عمرہ کی طرف ہے نہ کہ فتح حج کی جانب،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے۔(مرقات و لمعات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2559