Main Icon

باب :وداعی حج کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2559

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهٗ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلٰكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلٰى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيْرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهٖ كأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى قَوْلِهٖ بِيَدِهٖ يُحَرِّكُهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تُحِلُّوْا وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحَلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهٖ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهٖ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدٰى لَهٗ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ: "لِأَبَدٍ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن عطاء قال: سمعت جابر بن عبد الله في ناس معي قال: أهللنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم بالحج خالصا وحده قال عطاء: قال جابر: فقدم النبي صلى الله عليه وسلم صبح رابعة مضت من ذي الحجة فأمرنا أن نحل قال عطاء: قال: «حلوا وأصيبوا النساء» . قال عطاء: ولم يعزم عليهم ولكن أحلهن لهم فقلنا لما لم يكن بيننا وبين عرفة إلا خمس أمرنا أن نفضي إلى نسائنا فنأتي عرفة تقطر مذاكيرنا المني. قال: يقول جابر بيده كأني أنظر إلى قوله بيده يحركها، قال: فقام النبي صلى الله عليه وسلم فينا، قال: «قد علمتم أني أتقاكم لله وأصدقكم وأبركم ولولا هديي لحللت كما تحلوا ولو استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي فحلوا» فحللنا وسمعنا وأطعنا قال عطاء: قال جابر: فقدم علي من سعايته فقال: بم أهللت؟ قال بما أهل به النبي صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فأهد وامكث حراما» قال: وأهدى له علي هديا فقال سراقة بن مالك بن جعشم: يا رسول الله ألعامنا هذا أم لأبد؟ قال: "لأبد".رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی لوگوں کی جماعت میں حضرت جابر بن عبداللّٰه کو سنا فرماتے تھے ۱؎کہ ہم محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خالص حج کے لیے احرام باندھا ۲؎عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم چاربقرعید کی تاریخ کی صبح مکہ معظمہ پہنچے تو ہم کو کھل جانے کا حکم دیا عطا کہتے ہیں کہ فرمایا حلال ہوجاؤ،عورتوں سے صحبت کرو ۳؎عطا کہتے ہیں صحبت ان پر واجب نہ کی لیکن ان کے لیے عورتیں حلال فرمادیں ۴؎ہم نے سوچا کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم کو بیویوں کے پاس جانے کی اجازت دے دی تو کیا ہم عرفہ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ۵؎راوی کہتے ہیں حضرت جابر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے گویا میں ان کا ہاتھ ہلتا دیکھ رہا ہوں ۶؎فرماتے ہیں تو ہم میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللّٰه سے ڈرنے والا سب سے زیادہ سچا اور نیک اعمال ہوں ۷؎اگر میری ہدی نہ ہوتی تو جیسے تم حلال ہورہے ہو میں بھی حلال ہوجاتا اور جو بات بعد میں کھلی اگر پہلے سے ہم جانتے تو ہدی لاتے ہی نہیں ۸؎لہذا حلال ہوجاؤ چنانچہ ہم حلال ہوگئے ہم نے آپ کا حکم سنا اور بجا لائے ۹؎عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے کہا پھر حضرت علی اپنے دارالعمالہ سے آئے ۱۰؎حضور انور نے پوچھا کون سا احرام باندھا عرض کیا وہ جو اللّٰه کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے باندھا حضور نے فر مایا ہدی ذبح کرو اور احرام میں ٹھہرو حضرت علی ہدی لائے تھے ۱۱؎حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم نے عرض کیا یارسول اللّٰه کیا یہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے ۱۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عطاء ابن ابی رباح ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،مکہ معظمہ کے رہنے والے ساتھیوں کی جماعت کا ذکر قوت استدلال کے لیے کیا یعنی میں نے اکیلے یہ حدیث نہ سنی اس کے سننے والے دوسرے لوگ بھی ہیں۔
۲
؎اکثر صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے یا ہدی نہ لے جانے والے صحابہ نے حج کا احرام باندھا یا حضرت جابر نے اپنے اندازے سے یہ فرمایا ورنہ بہت سے صحابہ نے صر ف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔خیال رہے کہ یہاں صحابہ کا ذکر ہے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تو قران کیا تھا جیسے کہ پہلے عرض کیا گیا،بہرحال یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔
۳
؎یعنی پورے حلال ہوجاؤ جس میں بیوی سے صحبت بھی جائز ہےاس موقعہ پرکھل جانے کاحکم تو وجوبی تھا اور صحبت کا حکم اباحت کا،زیادہ سے زیادہ استحباب کا بہرحال دونوں حکم یکساں نہیں ہیں۔
۴
؎علماء فرماتے ہیں کہ اگرچہ امر اباحت کا تھا مگر اس وقت ان لوگوں پر اپنی بیویوں سے صحبت مستحب ہوچکی تھی کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا حکم تھا۔
۵
؎یہ کہنا یا سوچنا انکار کے لیے نہ تھا بلکہ حیرت کے لیے تھا جیساکہ فرشتوں نے خلیفہ الٰہی کا اعلان سن کرعرض کیا تھااَتَجْعَلُ فِیْھَا،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ نبی کے فرمان کا انکار تو کفر ہے،چونکہ یہ عمل صدیوں کے مروجہ عقیدے و عمل کے خلاف تھا اس لیے انہیں حیرت ہوئی اس کا پہلے سے اعلان ہوا کبھی نہ تھا اچانک حکم پہنچا۔
۶
؎یہ حضرت عطاء کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے یہ کلام ہاتھ ہلاکر کیا جیساکہ عادتًا بات کرتے ہیں ہاتھ ہلاتے جاتے ہیں یا بقیہ مدت کی کمی بیان کر نے کے لیے ہاتھ ہلایا کہ جب اتنی سی رتی بھر گھڑیاں باقی رہ گئیں عرفہ کا دن بالکل قریب ہی آگیا تو صحبت حلال کی گئی،بعض شارحین نے فرمایا کہ ہاتھ کی حرکت ذکر کر کے منی ٹپکانے کی طرف اشارہ ہے مگر یہ درست نہیں معلوم ہوتا،ورنہ پھر انگلی ہلائی جاتی نہ کہ ہاتھ،پہلی دو توجیہیں بہت قوی ہیں۔ (مرقات)
۷
؎سرکار کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے فرمان عالی کی درستی میں کچھ شبہ نہ ہوا تھا نہ انہیں قبول حکم سے سرتابی تھی،صدیوں کے عقیدے کے خلاف پر تعجب تھا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کا شوق تھا کیونکہ حضور عالی خود حلال نہ ہوئے تھے تو گویا اس وقت حلال نہ ہونا انہوں نے سنت جانا حلال ہوجانا بالکل ناجائز مانا،شوق تھا کہ افضل پر عمل کریں لہذا اس سے روافض دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۸
؎اس جملہ نے معاملہ صاف کردیا کہ صحابہ کو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اتباع کا شوق تھا نہ کہ حکم سے سرتابی اگر مجھے تمہارے اس شوق کا پہلے سے اندازہ ہوتا تو میں بھی نہ لاتا اور تمہارے ساتھ میں بھی حلال ہوجاتاتاکہ تمہیں حلال ہونے میں تکلف نہ ہوتا۔خیال رہے کہلَوْ اِسْتَقْبَلْتُسے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے علم کی نفی نہیں ہوتی،یہاں ظہور واقعہ مراد ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہ فِیۡھِمْ خَیۡرًا"یا جیسے"وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ"الخ اب تک رب نے انہیں نہ جانا یا یہ کلام اظہار افسوس کے لیے ہوتاہے کہ اگر ہمیں پہلے سے یہ اندازہ ہوتا کہ تمہیں اتباع سنت کا اتنا شوق ہے تو ہم بھی ہدی نہ لاتے۔
۹
؎اس سے معلوم ہوا کہ جب حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے قول و عمل میں تعارض ہو تو قول کو ترجیح ہوتی ہے کہ عمل میں خصوصیت کا احتمال ہے،یہ احناف کا مذہب ہے صحابہ کرام نے اطاعت خوشی سے کی نہ کہ ناراضگی سے،جو کچھ تامّل تھا وہ پہلے ہی ظاہرکر دیا۔اس لیے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ یہ اطاعت منافقت سے تھی۔
۱۰
؎اس موقعہ پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ یمن کے ساعی تھے جو صدقات وصول فرمانے وہاں تشریف لے گئے تھے،غالبًا اس گفتگو کے بعد حضرت علی یمن سے یہاں پہنچے۔
۱۱
؎یعنی تم بھی ہماری طرح قارن ہو اورتمہارے ساتھ بھی ہماری طرح ہدی ہے لہذا تم بھی احرام نہ کھولو حج سے فارغ ہوکر کھولنا۔
۱۲
؎یعنی تا قیامت حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا درست ہوگیا وہ دستورختم کردیا گیا کہ شوال سے صفر تک عمرہ حرام ہو مگر حج کا فتح صرف اس سال کے لیے تھا آئندہ کبھی جائز نہ ہوگا۔یہ اشارہ جواز عمرہ کی طرف ہے نہ کہ فتح حج کی جانب،یہ ہی جمہور علماء کا قول ہے۔(مرقات و لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2559