- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2556
باب :وداعی حج کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2556
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدٰى فَلْيُهِلَّ بِالحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَحِلَّ حَتّٰى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهٖ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهٗ» . قَالَتْ: فَحِضْتُ وَلَمْ أَطُفْ بِالبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتّٰى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِالحَجِّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ حَتّٰى قَضَيْتُ حَجِّي بَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثمَّ طَاْفُوْا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عائشة قالت: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج فلما قدمنا مكة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أهل بعمرة ولم يهد فليحلل ومن أحرم بعمرة وأهدى فليهل بالحج مع العمرة، ثم لا يحل حتى يحل منهما» . وفي رواية: «فلا يحل حتى يحل بنحر هديه ومن أهل بحج فليتم حجه» . قالت: فحضت ولم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فلم أزل حائضا حتى كان يوم عرفة ولم أهلل إلا بعمرة فأمرني النبي صلى الله عليه وسلم أن أنقض رأسي وأمتشط وأهل بالحج وأترك العمرة ففعلت حتى قضيت حجي بعث معي عبد الرحمن بن أبي بكر وأمرني أن أعتمر مكان عمرتي من التنعيم قالت: فطاف الذين كانوا أهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا بعد أن رجعوا من منى وأما الذين جمعوا الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا(متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ۱؎ہم نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا ۲؎ہم جب مکہ آئے تو رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی لایا ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے۳؎پھر حلال نہ ہو حتی کہ ان دونوں سے حلال ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ہدی کی قربانی کرلے۴؎اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے ۵؎فرماتی ہیں کہ میں کپڑوں سے ہوگئی حالانکہ میں نے بیت اللّٰه کا طواف نہ کیا تھا نہ صفا اور مروہ کی سعی تو میں کپڑوں سے ہی رہی،حتی کہ عرفہ کا دن آگیا ۶؎اور میں نے صرف عمرہ کا ہی احرام باندھا ہوا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں اپنے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور حج کا احرام باندھ لوں عمرہ چھوڑ دوں ۷؎میں نے ایسا ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کرلیا ۸؎میرے ساتھ عبدالرحمان ابن ابوبکر صدیق کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کی جگہ مقام تنعیم سے عمرہ کروں ۹؎فرماتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللّٰه کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر حلال ہوگئے ۱۰؎پھر منٰی سے لوٹنے کے بعد ایک طواف کیا ۱۱؎لیکن جنہوں نے حج وعمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ہم تمام ازواج نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم یا صحابہ کرام۔
۲؎صرف حج کا یا حج مع عمرہ کا یا بعض نے صرف حج کا بعض نے حج و عمرہ دونوں کا۔غرضکہ صحابہ کے حالات مختلف تھے۔(مرقات)
۳؎یعنی یہ دونوں قسم کے حضرات تمتع کریں،ہدی لانے والے تو ہدی کا تمتع کریں کہ درمیان میں حلال نہ ہوں اور ہدی نہ لانے والے بغیر ہدی کا تمتع کرےکہ درمیان میں حلال ہوجائیں۔خیال رہے کہ حج چار قسم کا ہوتا ہے: افراد، قران، تمتع ہدی والا،تمتع بغیر ہدی۔
۴؎دونوں عبارتوں کا مطلب قریبًا یکساں ہے کیونکہ قارن اور ہدی والا تمتع دسویں بقرعید کو ہی قربانی کرتے ہیں اور اسی دن دونوں احراموں سے کھلتے ہیں۔
۵؎یعنی افراد بالحج والا خواہ ہدی لایا ہو یا نہ لایا ہو بقر عید کے دن ہی احرام کھولے جیساکہ مفرد کرتے ہیں۔
۶؎یعنی میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مگر حج سے پہلے عمرہ نہ کرسکی کیونکہ میں ایام آجانے کی وجہ سے طواف نہ کرسکی اور بغیر طواف صفا مروہ کی سعی ہوتی نہیں لہذا عمرہ کا کوئی رکن ادا نہ کرسکی۔خیال رہے اگر عورت کو طواف کے بعد ایام آجائیں تو وہ سعی کرسکتی ہے،اگر طواف سے پہلے آجائیں تو نہ طواف کرسکتی ہے نہ سعی۔
۷؎اسے فسخ عمرہ یا رفض عمرہ کہتے ہیں کہ عمرہ کا احرام باندھ کر بغیر عمرہ کئے کھل جانا یعنی خلاف احرام افعال کر لینا۔
۸؎اس طرح کہ حج کا احرام باندھ کر بغیرطواف قدوم کئے عرفات چلی گئی،پھرعرفات مزدلفہ منٰی کے افعال سے فارغ ہوکرطواف زیارت کرلیا کہ اب میں ایام سے فارغ ہوچکی تھی طواف قدوم ایام کی وجہ سے نہ کرسکی تھی،اب بھی عورت کو عارضہ آجانے پر یہ ہی حکم ہے کہ اسے طواف قدوم بلکہ طواف وداع بھی معاف ہوجاتا ہے۔
۹؎تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر حدود حرم سے باہر جگہ ہے،اب وہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے،عام حجاج وہاں جاکر نفلی عمروں کا احرام باندھتے ہیں،یہ جگہ قریب ترین حد حرم ہے۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اپنا عمرہ چھوڑ دے اور بعد حج اس کی جگہ دوسرا عمرہ یعنی عمرہ قضا کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ کا تمتع ہوا نہ کہ قران اور یہ بعد والا عمرہ عمرہ واجبہ تھا نہ کہ عمرہ نفلی جیسا کہ شوافع نے سمجھا۔
۱۰؎یہ حضرات ۷ ذی الحجہ تک حلال رہے آٹھویں کو احرام باندھ کر منٰی روانہ ہوگئے جیساکہ تمتع والے اب بھی کرتے ہیں
۱۱؎طواف زیارت جس کا وقت دسویں بقر عید سے بارھویں بقر عید کی شام تک ہے،یہ طواف فرض ہے۔
۱۲؎یعنی قران والوں نے بھی منٰی سے واپس ہوکر صرف ایک طواف ہی کیا،طواف زیارت انہوں نے قران کی وجہ سے اب دو طواف نہ کئے لہذا یہ حدیث نہ تو احناف کے خلاف ہے نہ شوافع کی دلیل۔خیال رہے کہ قارن احناف کے نزدیک بعد ادائے عمرہ عرفات جانے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا اور بعد عرفات طواف زیارت کرے گا،امام شافعی کے ہاں قارن طواف قدوم نہیں کرتا،صرف بعد عرفات طواف زیارت کرتا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم قارن تھے مگر آپ نے عمرہ کے بعد طواف قدوم کیا، نیز دارقطنی نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سےروایت کی کہ حضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم قارن تھے مگر آپ نے عرفہ سے دو طواف کئے اور دو سعی،ایک طواف وسعی عمرہ کا،دوسرا طواف وسعی حج کا،نیز طحاوی نے عمران ابن حصین،علی،عبداللّٰه ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہم سے روایت کی کہ قارن دو طواف کرے اور دو سعی لہذا اس حدیث عائشہ کے یہ ہی معنی ہیں کہ عرفات کے بعد قارن صحابہ رضی اللّٰہ عنھم نے ایک طواف کیا تاکہ تمام احادیث جمع ہوجائیں اور یہ حدیث ہماری پیش کردہ احادیث کے خلاف نہ ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2556