Main Icon

باب :وداعی حج کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2558

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هٰذِهٖ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهٗ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌوَهٰذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «هذه عمرة استمتعنا بها فمن لم يكن عنده الهدي فليحل الحل كله فإن العمرة قد دخلت في الحج إلى يوم القيامة» . رواه مسلموهذا الباب خال عن الفصل الثاني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ وہ عمرہ ہے جس سے ہم نے تمتع کرلیا ۱؎تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ پورا پورا حلال ہوجائے ۲؎کیونکہ اب قیامت تک کو عمرہ حج میں داخل ہوگیا ۳؎(مسلم)یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بھیتمتعلغوی معنی میں ہے یعنی حج و عمرہ سے نفع اٹھالے دونوں ایک سفر میں کرنا قران کا مقابل نہیں یعنی الگ الگ احرام سے حج و عمرہ کرنا جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔
۲
؎پورا حلال ہونا یہ ہے کہ بیوی سے صحبت بھی جائز ہوجائے،ناقص حل یہ ہے کہ سلا کپڑا،خوشبو،سر ڈھانپنا تو حلال ہوجائے مگر صحبت حرام رہے اس حکمت سے یہاں پورے حلال کا حکم دیا۔
۳
؎یعنی عمرہ حج کے مہینوں میں داخل ہوگیا،کفار عرب کا عقیدہ تھا کہ شوال سے محرم تک عمرہ کرنا حرام ہے ماہ صفر سے جائز ہوتا ہے یہ عقیدہ ختم فرمادیا گیا،بعض علماء جو فرماتے ہیں کہ مکہ والے حج کے زمانہ میں عمرہ نہ کریں اس کی وجہ صر ف یہ ہے کہ ان کے عمرہ کرنے سے ہجوم زیادہ ہوجائے گا اور باہر والوں پر طواف و سعی میں دشواری ہوگی،یہ لوگ تو ہمیشہ عمرہ کرسکتے ہیں،باہر کے حجاج کو اس زمانہ میں عمرہ آسانی سے کرنے دیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2558