Main Icon

باب : مستحاضہ کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 562

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِيْ حُبَيْشٍ اسْتُحِيْضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سُبْحَانَ اللّٰهِ!إِنَّ هٰذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسَ فِيْ مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَوَضَّأُ فِيْمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن أسماء بنت عميس قالت: قلت يا رسول الله إن فاطمة بنت أبي حبيش استحيضت منذ كذا وكذا فلم تصل، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سبحان الله!إن هذا من الشيطان، لتجلس في مركن، فإذا رأت صفارة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر غسلا واحدا، وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا، وتغتسل للفجر غسلا واحدا، وتوضأ فيما بين ذلك ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول الله فاطمہ بنت ابی حبیش اتنی مدت سے استحاضہ میں مبتلا ہیں ۲؎کہ نماز نہ پڑھ سکیں۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسبحان ﷲ۳؎یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۴؎وہ لگن میں بیٹھ جایاکریں ۵؎جب زردی پانی پر دیکھ لیں ۶؎تو ظہر و عصر کے لیئے ایک غسل کرلیاکریں اور مغرب وعشاءکے لیئے ایک غسل اورفجرکے لیئے ایک غسل۷؎اوران کے درمیان وضوکرتی رہیں ۸؎اسے ابوداؤدنے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎مشہورصحابیہ ہیں،بہت عاقلہ صالحہ عابدہ تھیں،اولًا حضرت جعفر ابن ابی طالب کے نکاح میں تھیں انہیں کے ساتھ آپ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی،ان سے آپ کے تین بیٹے ہوئے عبد الله ابن جعفر،محمد،عون۔حضرت جعفر کی شہادت کے بعدحضرت ابوبکرصدیق کے نکاح میں آئیں جن سے محمدابن ابوبکر پیدا ہوئے۔حضرت صدیق کی وفات کے بعدحضرت علی مرتضی کے نکاح میں آئیں جن سے یحیی ابن علی پیداہوئے۔آپ سے حضرت عمر،عبد الله ابن عباس،ابوموسیٰ اشعری جیسے جلیل القدرصحابہ نے احادیث نقل کیں۔
۲
؎کیونکہ وہ سمجھیں کہ حیض کی طرح استحاضہ بھی نمازسے مانع ہے لیکن جب استحاضہ بندہی نہ ہوا تو گھبرائیں کہ کب تک نماز سے محروم رہوں تب مسئلہ پوچھا۔خیال رہے کہ اس صورت میں آپ کو استحاضہ کے زمانے کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیا گیا مگریہاں اس کا ذکر نہ ہوا کیونکہ مسئلہ سے بے خبری عذرنہیں،ہاں اس پر عتاب نہ ہوا کہ بے خبری کی وجہ سے قصورموجب عتاب نہیں۔
۳
؎یہسبحان اللهتعجب کے لیے ہے کہ تم جیسی عاقلہ سنجیدہ بی بی نے بغیردریافت کئے نمازچھوڑدی ہم سے یا فقہاءصحابہ سے مسئلہ معلوم کرنا چاہیئے تھا۔
۴
؎یعنی استحاضہ کی بیماری شیطانی اثر سے ہے۔اس کی تحقیق پچھلی حدیث میں گزر چکی کہ جب ہوا وپانی بلکہ مٹی وغذا میں بیمار کردینے کا اثرموجود ہے توشیطان بھی اثرکرکے بیمارکرسکتا ہےیا تمہارابغیرپوچھے نماز چھوڑے رہناشیطانی اثر اوراس کی دھوکہ سے ہے۔خیال رہے کہ الله کے محبوب بندوں پربھی شیطان کا داؤ چل جاتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو گندم کھانے کی رغبت شیطان ہی نے دی"فَاَزَلَّہُمَا الشَّیۡطٰنُ" ہاں ان مقبولوں کو شیطان گمراہ نہیں کرسکتاگمراہی اورچیزہے،فسق اورچیز اورخطاوغلطی اور،رب فرماتا ہے:"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"اورخودشیطان نے کہا تھا"لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیۡنَ اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ
۵
؎یعنی پانی کی لگن پربھرکربیٹھ جائیں تاکہ اس سے وقت ظہر کی روانگی اورعصر کی آمدمعلوم کرلیں(اشعۃ ومرقاۃ وغیرہ)،یا خود اس بھری لگن میں بیٹھ جایا کریں ٹھنڈک کے لئے تاکہ اس ٹھنڈک سے مرض کا زورٹوٹ جائے۔
۶
؎یعنی پانی پر آفتا ب کی شعائیں زرد ہوکر پڑنے لگیں جس سے معلو م ہوا کہ اب وقت عصر قریب ہے تو غسل کرکے ظہر وعصر پڑھیں۔(مرقات وغیرہ)یا جب استحاضہ کے خون کا اثرپانی پرنمودارہوجائے کہ پانی کا رنگ زرد پڑجائے تب لگن سے نکل آیا کریں۔پہلی توجیہ پر یہ لگن کا عمل وقت معلوم کرنے کے لیے ہے۔دوسری توجیہ پر یہ عمل علاج کے لئے ہے۔خیال رہے کہ دھوپ کا پیلا پڑنااورہے،یہ تو عصر کے آخر وقت ہوتا ہے جب نماز مکروہ ہوجاتی ہے اور پانی پر شعاعوں کی زردی معلوم ہونا کچھ اور،یہ ظہر کے آخر وقت ہوتا ہے،لہذا حدیث بے غبار ہے۔
۷
؎یعنی روزانہ تین بارغسل کرلیا کریں تاکہ الله انہیں استحاضہ کی بیماری سے شفاء دے جیسے کہ پہلے گزرچکا کہ یہ حکم علاج کے طورپر ہے،حکم شرعی نہیں اور نہ مستحاضہ پر یہ غسل شرعًا واجب۔
۸
؎یعنی اگران کے سواءاوروقت نفل یا تلاوت قرآن وغیرہ کے لئے وضوکرنا ہوتوصرف وضوکافی ہے غسل نہ کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم محض علاج کے لئے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 562