Main Icon

باب : مستحاضہ کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 560

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ-قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ: جَدُّ عَدِيٍّ اسْمُهٗ دِيْنَارٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيْ الْمُسْتَحَاضَةِ:"تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِيْ كَانَتْ تَحِيْضُ فِيْهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُوْمُ، وَتُصَلِّيْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عدي بن ثابت عن أبيه عن جده-قال يحيى بن معين: جد عدي اسمه دينار عن النبي صلى الله عليه وسلم قال في المستحاضة:"تدع الصلاة أيام أقرائها التي كانت تحيض فيها، ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة، وتصوم، وتصلي". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے راوی يحيىابن معین کہتے ہیں کہ عدی کے دادا کانام دینارہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی کے لیئے فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے زمانہ میں جن میں اسے حیض آتا تھانمازچھوڑدیا کرے پھرنہائے اورہر نمازکے وقت وضوکرے ۲؎اور روزہ رکھے اورنماز پڑھے۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ عدی کوفی ہے،انصاری ہے،اس پر رفض کا شبہ کیا گیا ہے۔(مرقاۃ)بعض نے فرمایا کہ ثابت ان کے باپ کا نام ہے،بعض نے فرمایا دادا کا نام ہے اوردینارپڑدادا،باپ کا نام قیس ابن الحطیم ہے۔وﷲ اعلم!عدی کوفہ میں روافض کی مسجدکا امام تھا، ۱۱۶ ھمیں فوت ہوا۔
۲
؎یعنی غسل تو صرف ایک بار کرے حیض ختم ہونے پراور وضو ہرنمازکے وقت کیا کرے،جیسا کہ مستحاضہ عورت کا حکم ہے لہذا "عِنْدَ کُلِّ صَلوٰۃٍ"تَتَوَضَّاہُکا ظرف ہے نہ کہتَغْتَسِلُکا۔
۳
؎چونکہ روزہ مستحاضہ کے لئے نماز سے زیادہ اہم ہے کہ اس پر زمانۂ حیض کے روزوں کی قضاءہے،نمازکی نہیں لہذا روزے کونماز پر مقدم رکھاگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 560