Main Icon

باب : مستحاضہ کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 559

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرِيْقُ الدَّمَ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِيْ وَالأَيَّامِ الَّتِيْ كَانَتْ تَحِيْضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيْبَهَا الَّذِيْ أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذٰلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذٰلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ". رَوَاهُ مَالكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.

وعن أم سلمة قالت: إن امرأة كانت تهريق الدم على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-فاستفتت لها أم سلمة النبي -صلى الله عليه وسلم-، فقال: "لتنظر عدد الليالي والأيام التي كانت تحيضهن من الشهر قبل أن يصيبها الذي أصابها، فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر، فإذا خلفت ذلك فلتغتسل ثم لتستثفر بثوب ثم لتصل". رواه مالك وأبو داود والدارمي، وروى النسائي معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون گراتی تھی ۱؎اس کے متعلق حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۲؎فرمایا کہ وہ رات دن مہینے کے گن لے جن میں اس بیماری کے لگنے سے پہلے حیض آتا تھا مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے پھرجب یہ دن گزرجائیں تو غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھتی رہے۳؎(مالک،ابوداؤد،دارمی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎ان بی بی صاحبہ کا نام معلوم نہ ہوسکا۔تُھْرَاقُاورتَھْرِیْقُدونوں طرح روایت ہےلازائدہ ہے۔باب افعال کا مضارع معروف یامجہولتُرِیْقُیاتُرَاقُتھا۔
۲
؎یعنی خود تو شرم کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ سکیں حضرت ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرکے انہیں مسئلہ بتایا۔خیال رہے کہ ان پاک بیبیوں کے مختلف حال تھے،بعض تو تحقیق مسئلہ کو شرم پر مقدم رکھتی تھی،اوربعض شرم سے خود نہ پوچھتیں دوسرے ذریعہ سے دریافت کرالیتی تھیں،وہ سب الله کی پیاری تھیں"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"سب سے جنت کاوعدہ ہوچکاہے۔
۳
؎یعنی مستحاضہ اپنے ہر مہینہ کے دو حصے کرے،ایک حصہ کو حیض شمار کرے،تین دن سے دس دن تک جس قدر پہلے حیض آتا رہا ہو وہ حیض باقی استحاضہ۔مستحاضہ کولنگوٹ باندھنے کا حکم استحبابی اوراحتیاطی ہے تاکہ خون سے مصلے اورکپڑے گندے نہ ہوں وجوبی نہیں،اگربغیرلنگوٹ کسی اورذریعہ سے یہ مقصدحاصل ہوجائے تو وہ کرے اوراگرکسی طرح خون رکتا نہ ہوتونمازپڑھتی رہے اگرچہ خون مصلے پرٹپکتارہےجیساکہ دوسری روایات میں ہے۔تمام معذوروں کو یہی حکم ہے جیسے نکسیر،سلسل بول والے لوگ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 559