- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5520
باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5520
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ" لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ عَامًا "فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ فِي النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ" قَالَ: "فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا"قَالَ: "وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ، فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلى رَبِّكُمْ قِفُوهُمْ إِنَّهم مَسْؤُولُونَ فَيُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ. فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ كَمْ؟فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِئَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ" قَالَ: "فَذَلِكَ يَوْمٌ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمٌ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ: "لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ" فِي "بَاب التَّوْبَة".
وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يخرج الدجال فيمكث أربعين" لا أدري أربعين يوما أو شهرا أو عاما "فيبعث الله عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه، ثم يمكث في الناس سبع سنين ليس بين اثنين عداوة، ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام، فلا يبقى على وجه الأرض أحد في قلبه مثقال ذرة من خير أو إيمان إلا قبضته، حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلته عليه حتى تقبضه" قال: "فيبقى شرار الناس في خفة الطير وأحلام السباع، لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا، فيتمثل لهم الشيطان فيقول: ألا تستحيون؟ فيقولون: فما تأمرنا؟ فيأمرهم بعبادة الأوثان، وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم، ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ورفع ليتا"قال: "وأول من يسمعه رجل يلوط حوض إبله فيصعق ويصعق الناس، ثم يرسل الله مطرا كأنه الطل، فينبت منه أجساد الناس، ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون، ثم يقال: يا أيها الناس هلم إلى ربكم قفوهم إنهم مسؤولون فيقال: أخرجوا بعث النار. فيقال: من كم كم؟فيقال: من كل ألف تسع مئة وتسعة وتسعين" قال: "فذلك يوم يجعل الولدان شيبا، وذلك يوم يكشف عن ساق". رواه مسلم.وذكر حديث معاوية: "لا تنقطع الهجرة" في "باب التوبة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال نکلے گا تو چالیس تک پھرے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا مہینے یا سال ۱∞؎پھر اللہ تعالٰی عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا گویا وہ عروہ ابن مسعود ہیں۲؎آپ اسے تلاش کریں گے ہلاک کردیں گے پھر آپ لوگوں میں سات سال ٹھہریں گے۳؎کہ دو شخصوں کے درمیان دشمنی نہ ہوگی۴؎پھر اللہ ایک ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے بھیجے گا ۵؎تو روئے زمین پر کوئی نہ رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو مگر وہ ہوا اسے وفات دیدے گی حتی کہ اگر تم میں سے کوئی وسط پہاڑ میں داخل ہوجائے تو وہ اس تک داخل ہوگی کہ اسے وفات دیدے گی ۶؎فرمایا پھر بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے چڑیوں کی طرح ہلکے درندوں کی سی والے ۷؎نہ کسی اچھی بات کو جانیں گے نہ کسی برائی کو برا جانیں گے۸؎ان کے پاس شیطان انسانی شکل اختیار کے آوے گا کہے گا تم شرم کیوں نہیں کرتے ۹؎وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے وہ انہیں بت پرستی کا حکم دے گا۱۰؎وہ اس حال میں ہوں گے ان کا رزق بہتا ہوگا ان کا عیش خوب ہوگا ۱۱∞؎پھر صور پھونکا جاوے گا تو اسے کوئی نہیں سنے گا مگر گردن کبھی جھکائے گا اور کبھی اٹھائے گا ۱۲؎فرمایا پہلا جو شخص سنے گا وہ شخص ہوگا جو اپنے اونٹ کا حوض پیتا ہوگا ۱۳؎پھر لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۱۴؎پھر اللہ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا تو اس سے لوگوں کے جسم اُوگیں گے ۱۵؎پھر صور میں دوبارہ پھونکا جاوے گا تو اچانک سب لوگ کھڑے دیکھتے ہوں گے۱۶؎پھر کہا جاوے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف چلو انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھ گچھ کی جاوے گی ۱۷؎پھر کہا جاوے گا آگ کی رسد نکالو تو کہا جاوےگا کتنی سے کتنی تو فرمایا جاوے گا ہر ہزار سے نو سو ننانونے ۱۸؎فرمایا کہ وہ وقت ہوگا جو بچوں کو بڈھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہوگا جب پنڈلی کھولی جاوے گی ۱۹؎(مسلم)اور جناب معاویہ کی حدیثلاتنقطع الھجرۃتوبہ کے باب میں ذکر کردی گئی ۲۰؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ شک ان راوی کو ہے کہ حضور انور نے کیا فرمایا کہ چالیس دن فرمائے یا چالیس ماہ یا سال ورنہ حضور انور نے چالیس دن فرمایا ایک دن ایک سال کی برابر وغیرہ۔۲؎یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت عروہ ابن مسعود کے ہم شکل ہوں گے،عروہ ابن مسعود سیدنا عبداللہ ابن مسعود کے بھائی ہیں، بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں جوصلح حدیبیہ کے دن کفار کی طرف سے حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،پھر ۹ھ میں غزوہ طائف کے بعد یہ اسلام لائے پھر اپنی قوم کو دعوتِ اسلام دی جس پر قوم نے انہیں قتل کردیا،یہ عبداللہ ابن مسعود کے بھائی نہیں کہ وہ تو عبداللہ ابن مسعود ابن غافل ہذلی ہیں یہ ہی صحیح ہے۔(مرقات)۳؎اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ بعض روایات میں ہے چالیس سال،بعض میں ہے سات،سال والی روایات میں آپ کا پہلا قیام جو ۳۳ سال تھا اور سات سال یہ قیام بعد نزول والا ملا کر مراد ہے اور بھی زیادہ کی روایات ہیں۔۴؎یعنی ان سات سال میں تمام دنیا میں اسلام ہی ہوگا سب مسلمان متقی ہوں گے،سب کے سینے کینہ سے پاک و صاف ہوں گے۔۵؎حضرت عیسیٰ کے پردہ فرمانے کے بعد کچھ عرصہ تو یہ ہی خیر و برکت رہے گی،پھر انسان کافر بھی ہونے لگیں گے حتی کہ کچھ عرصہ بعد دنیا میں کفار بھی بہت ہوجائیں گے لہذا حدیث شریف واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ جب سارے انسان مسلمان ہوچکے تھے تو اس کے ہوا چلنے پر کافر کہاں سے آئے جو زندہ رہے۔۶؎خلاصہ یہ ہے کہ اس ہوا سے کوئی مسلمان کسی طرح بچے گا نہیں جہاں بھی ہوگا وفات پاجائے گا۔یہ موت اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت ہوگی کہ بدترین لوگوں میں مسلمان نہ رہیں گے ہم کو اس دعا کی تعلیم دی گئی ہےو توفنا مع الابرار۔۷؎یعنی وہ لوگ بالکل بے عقل ہوں گے اور سخت خونخوار۔چڑیا ہر کام میں جلدی کرتی ہے ایسے ہی وہ ہر برائی بغیر سوچے سمجھے جلدی کریں گے گویا گناہ پر اڑ کر پہنچیں گے اور بے رحمی،غصہ وحشت،بربریت طیش میں خونخوار درندوں کی طرح ہوں گے،بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے کو بات بات پر قتل و غارت کریں گے۔۸؎بلکہ برعکس اچھائیوں کو برا سمجھیں گے اور برائیوں کو اچھا سمجھیں گے،عقل و علم سے خالی ہوں گے اور ساتھ ہی بڑے مالدار ہوں گے،جب مال ہو مگر عقل،دین،علم نہ ہو تو مال زہر ہے،مال سانپ ہے جس کا تریاق دین ہے۔۹؎شیطان کا انسان کے دل میں وسوسے ڈالنا اس کا ادنی فریب ہے مگر شکل انسانی میں آکر بہکانا اس کا بڑا ہی سخت فریب ہے جس سے بچنا مشکل ہے اس لیے قرآن مجید میں انسان شیطان کو جن شیطان سے سخت تر فرمایا کہ "شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الْجِنِّ"۔(مرقات)وہ کہے گا کہ تم خدا رسی کا ذریعہ کیوں اختیار نہیں کرتے اللہ کی راہ سے کیوں بہکے ہوئے ہو۔۱۰؎یعنی تم لوگ بت پرسی کرو خدا رسی کے لیے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اولًا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے ہوں گے نہ خدا تعالٰی کی نہ بتوں کی،جانوروں کی طرح یوں ہی زندگی گزارتے ہوں گے شیطان انہیں برے راستہ پر لگا دے گا۔۱۱∞؎یعنی ان پر بڑا عذاب یہ ہوگا کہ اس بے علمی بے عقلی بے دینی کے ساتھ ان کے پاس مال و دولت رزق بہت ہی وسیع ہوگا کہ اس سے ان پر گناہوں کے دروازے کھل جائیں گے۔۱۲؎لیتلام کے کسرہ سے گردن کی ایک طرف ایک حصہ کو کہتے ہیں یعنی وہ گھبراہٹ میں کبھی گردن کی داہنی کروٹ اونچی کرے گا بائیں نیچی کبھی اس کے برعکس۔اس کی یہ حرکت انتہائی گھبراہٹ میں ہوگی کہ کبھی وہ صور کی آواز داہنے کان سے سنے گا کبھی بائیں سے۔۱۳؎صور کی آواز لازمًا نہایت ہلکی اور باریک ہوگی جسے سوا اس شخص کے کوئی نہ سنے گا پھر آہستہ آہستہ تیز ہوتی جائے گی۔۱۴؎پہلے بے ہوش ہوں گے پھر فنا،یا بے ہوشی سے مراد ہلاکت ہے،اشعۃ اللمعات نے یہ ہی معنی کیے۔۱۵؎یہ واقعہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا اس دوران میں ان مردوں کے جسم گل چکے ہوں گے،اس بارش سے لوگوں کے جسم ایسے اگیں گے جیسے کھیت میں سبزہ اگتا ہے۔۱۶؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ جسموں کی بالیدگی تو اس ہلکی بارش سے ہوگی اور سب کا زندہ ہونا صور کی آواز سے ہوگا۔۱۷؎پہلا خطاب زندہ ہونے والے لوگوں سے تھا کہ اے زندہ ہونے والو یہاں سے میدان حشر کی طرف یعنی شام کی زمین کی طرف چلو، جب یہ لوگ وہاں پہنچ جائیں گے تب فرشتوں سے کہا جائے گا کہ انہیں یہاں کھڑا کردو یہاں ہی ان کا حساب ہوگا۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ فرشتوں کی نگرانی میں محشر تک جائیں گے اور انہیں فرشتے وہاں کھڑا کریں گے۔۱۸؎یہ سوال جواب رب تعالٰی اور ان فرشتوں کے درمیان ہوگا یعنی اے فرشتو تمام لوگوں میں سے آگ کے مستحقین کو الگ کردو تب وہ یہ سوال کریں گے کہ آگ کا حصہ کتنا ہے ،فرمایا جائے گا ہزار میں سے نو سو ننانوے۔اس فرمان عالی کی دو شرحیں ہیں: ایک یہ کہ نو سو ننانوے میں کفار گنہگار جو بھی دوزخ کے لائق ہیں سب ہوں گے،پھر سارے گنہگار حضور کی شفاعت سے بخش دیئے جائیں گے،بعض تو یہاں ہی اور بعض دوزخ میں سزا پاکر صرف کفار وہاں رہیں گے۔دوسری شرح یہ ہے کہ محشر کی اس جماعت میں یاجوج ماجوج بھی ہوں گے ان کی تعداد کا یہ حال ہے کہ یہاں بیرونی زمین کے انسان ان کے مقابلے میں فی ہزار ایک ہیں۔(اشعۃ اللمعات)بہرحال یہ خطاب بہت ہی ہولناک ہوگا۔۱۹؎یعنی اس دن کی وحشت و دہشت کا یہ حال ہوگا کہ اگر اس دن بچے ہوتے تو بڈھے ہوجاتے غم و اندوہ کی وجہ سے۔پنڈلی کھلنے سے مراد ہے سخت پریشان ہونا یعنی لوگوں کو اس وقت انتہائی پریشانی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ جب حاملہ اونٹنی کے پیٹ میں بچہ مرجاتا ہے تو آدمی ہاتھ ڈال کر اسے نکالتا ہے،پہلے اس بچہ کی پنڈلی نمودار ہوتی ہے،یہ اونٹنی پر سخت تر وقت ہوتا ہے،پھر محاورہ میں ہر مشکل میں پھنسنے کو پنڈلی کھل جانے سے سے تعبیر کیا جا تاہے۔قرآن مجید میں جو ارشاد ہوا"یَوْمَ یُکْشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوۡدِ" وہاں پنڈلی کھولے جانے سےمراد بعض کے نزدیک یہ ہے کہ رب تعالٰی اپنی ساق قدرت کھولے گا،لوگوں کو حکم دے گا کہ ہماری ساق کو سجدہ کرو۔۲۰؎وہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی ہم نے وہاں بیان کی وہاں کے زیادہ مناسب ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5520