- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1496
باب : سجدۂ شکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1496
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَاصٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللهَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا قَالَ: “إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ
وعن سعد بن أبي وقاص قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة نريد المدينة فلما كنا قريبا من عزوزاء نزل ثم رفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا قال: “إني سألت ربي وشفعت لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت رأسي فسألت ربي لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت رأسي فسألت ربي لأمتي فأعطاني الثلث الآخر فخررت ساجدا لربي شكرا” . رواه أحمد وأبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مکہ معظمہ سے چلے مدینہ پاک کا ارادہ کرتے تھے جب ہم عزوزاء کے قریب پہنچے ۱∞؎توحضور ا ترے پھر اپنے ہاتھ اٹھائے ایک گھڑی الله سے دعا مانگی پھرسجدے میں گرے اس میں بہت ٹھہرے پھر اٹھے تو ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے رہے۲؎پھرسجدے میں گرے وہاں بہت ٹھہرے پھر اٹھے ایک گھڑی اپنے ہاتھ اٹھائے پھر سجدےمیں گرے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اورشفاعت کی تو رب نے مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیئے سوال کیا مجھے تہائی امت دے دی میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گرگیا پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا اس نے مجھے آخری تہائی بھی دے دی تو میں رب کا شکر کرتے سجدے میں گر گیا۳؎(احمد،ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎عزوزاءمقام حجفہ میں ایک خشک پہاڑی کا نام ہے،چونکہ یہاں پتھریلی اورسخت زمین ہے،پانی بہت کم ہے اس لیے اسےعزوزاء کہتے ہیں اورعزوزاءاونٹنی ہے جس کا دودھ سختی سے دوہا جاتاہے،سخت دھار ہو۔۲؎عزوزاء میں حضورصلی الله علیہ وسلم کا اترنا ٹھہرنے کے ارادے سے نہ تھا،بلکہ بذریعۂ وحی حضورصلی الله علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ جنگل برکت والا ہےیہاں دعاکریں،لہذا دعا کے لیے اترے۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کایہاں پہلا سجدہ دعاء کے لیے تھا کیونکہ سجدے میں دعاجلدی قبول ہوجاتی ہے۔باقی سجدے دعا کے لیےبھی تھے اورشکریہ کے بھی،آخری سجدہ صرف شکریہ کا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔یا یہ سب سجدے شکر کے تھے،دعائیں تو بیٹھ کر ہاتھ اٹھاکر مانگی گئیں،دوسرا احتمال قوی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا میں ہاتھ اٹھانا اور آہستہ مانگنا سنت ہے۔۳؎یہاں حضورصلی الله علیہ وسلم نے اپنی امت کے گناہوں کی مغفرت،ان کی عیب پوشی اور بلندیٔ مراتب وغیرہ تمام چیزوں کی دعائیں کی،رب نے ترتیب وارتمام امت کی بخشش وغیرہ کا وعدہ فرمالیا۔پہلی بارمیںسَابِقِیْنَ بِالْخَیْرَاتِ،دوسری بار میںمُقْتَصِدِیْنَ،تیسری میں ہم جیسے ظالمین،عاصین،گناہگار بخشے گئے،اب مومن کے لیے جہنم میں ہمیشگی نہ ہوگی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی بھی حضورصلی الله علیہ وسلم کی شفاعت کے بغیر رب کی رحمت نہیں پاسکتا۔جو ملے گا حضورصلی الله علیہ وسلم کی اس دعا کا صدقہ ملے گا۔نیک ابرارکو پہلی دعا کا صدقہ،مخلوط اعمال والوں کو دوسری دعا کا توسل،بدکار و فجار کوتیسری دعا سے حصہ ملے گا۔دوسرے یہ کہ حضورصلی الله علیہ وسلم الله کے ایسے محبوب ہیں کہ ضدکرکے،ناز کرکے اپنی امت بخشالیتےہیں۔ہم گنہگاروں کو حضورصلی الله علیہ وسلم کی اس محبوبیت پر ناز ہے۔شعر
چہ غم دیوار امت راکہ داردچوں توپشتی باں چہ باک از موج بحرآن راکہ داردنوح کشتی باں
ہم بُرے ہیں مگربفضلہٖ تعالٰیاسی اچھے کے ہیں،صلی الله علیہ وسلم۔خیال رہے کہ پہلی بار والے بغیرحساب وکتاب جنتی ہیں، دوسری باروالے کچھ جھڑک وعتاب کے بعد،تیسری باروالے یا کچھ عذاب پاکر یامعافی پاکر۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1496