Main Icon

باب : سجدۂ شکر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1495

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَجُلًا مِنَ النَّغَّاشِينَ فَخَرَّ سَاجِدًا. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ لَفْظُ المَصَابِيْحِ

وعن أبي جعفر: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى رجلا من النغاشين فخر ساجدا. رواه الدارقطني مرسلا وفي شرح السنة لفظ المصابيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوجعفر سے ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ناقص الخلقت لوگوں میں سےکسی کو دیکھا تو آپ سجدے میں گرگئے ۲؎(دارقطنی)ارسالًا۳؎شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب ہے،کنیت ابوجعفر،لقب باقر ہے،یعنی آپ امام زین العابدین کے بیٹے ہیں،امام جعفر آپ کے بیٹے ہیں،آپ تابعی ہیں،حضرت جابر ابن عبدالله سے ملاقات ہے، ۵۶ھ میں پیدائش اور ۱۱۷ھ میں وفات ہے،جنۃ البقیع میں دفن ہیں،فقیر آپ کے مزار پر حاضر ہوا۔۲؎خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اعضاءصحیح بخشے اور اس مصیبت سے بچایا۔یہ شکریہ اپنی حفاظت کا ہے نہ کہ اس کی آفت میں مبتلا ہونے کا۔۳؎کیونکہ ابوجعفر نےحضورصلی الله علیہ وسلم کو نہ پایامگر دوسری روایت سے اس حدیث کوقوت ملتی ہے۔حدیث میں ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے ایک اپاہج کو دیکھ کر سجدہ کیا۔دوسری روایت میں ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے ایک بگڑی شکل والے کو دیکھ کرسجدہ کیا۔(مرقاۃ)نغاش نغشسے بنا،بمعنی بہت پست قد،ضعیف الحرکت،ناقص الخلقت انسان۔علماءفرماتے ہیں کہ دینی آفت زدہ کو دیکھ کربھی خدا کا شکر کرنا چاہیئے،حضرت شبلی نے ایک دنیا میں پھنسے آدمی کو دیکھا تو سجدے میں گر گئے اور آپ نے یہ دعا پڑھی"اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًایہ دعا ہر دینی و دنیاوی مصیبت زدہ کو دیکھ کر پڑھی جائے توان شاءاللّٰہ٫پڑھنے والا اس مصیبت سے دور رہے گا،دنیاوی مصیبت والے کو دیکھ کر آہستہ پڑھے،فاسق و بدکارکو دیکھ کر آواز سے پڑھے تاکہ اسے عبرت ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1495