Main Icon

باب: وسوسہ (برے خیالات ) - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 69

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِيْنَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من بني آدم مولود إلا يمسه الشيطان حين يولد فيستهل صارخا من مس الشيطان غير مريم وابنها»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی زادہ ایسا نہیں ۱؎جسے پیدائش کے وقت شیطان چھوتا نہ ہو وہ بچہ شیطان کے چھونے سے ہی چیختا ہے ۲؎سواء مریم اور ان کے فرزند کے۳؎(بخاری و مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت آدم و حوا کو شیطان مس نہ کرسکا کیونکہ وہ آدمی زادہ نہیں ہیں۔
۲
؎اس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ ہیں۔ایسے مقام پر متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہے کہ حضور روتے ہوئے پیدا نہ ہوئے۔(از اشعۃ للمعات)
۳
؎عیسیٰ علیہ السلام یعنی ان دونوں بزرگوں کو شیطان نہ چھو سکا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ پیدائش کے وقت شیطان بچے کی کوکھ میں انگلی مارتا ہے جس کی تکلیف سے بچہ چیختا ہے۔ان دونوں بزرگوں کی پیدائش کے وقت بھی شیطان نے یہ حرکت کی مگر اس کی انگلی حجاب میں لگی جو رب نے ان کے اور اس کے درمیان میں پیدا کردیا تھا۔اس حدیث کی تائید قرآن پاک کی اس آیت سے ہے۔:قَالَتْاِنِّیۡۤ اُعِیۡذُهابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 69