Main Icon

باب: وسوسہ (برے خیالات ) - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 65

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهٗ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذٰا مَنْ خَلَقَ كَذٰا حَتّٰى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ فَإِذَا بَلَغَهٗ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللّٰهِ وَالْيَنْتَهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يأتي الشيطان أحدكم فيقول: من خلق كذا من خلق كذا حتى يقول: من خلق ربك فإذا بلغه فليستعذ بالله والينته (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتاہے ۱؎تو اس سے کہتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی فلاں کس نے؟یہاں تک کہ کہتا ہے تمہارے رب کوکس نے پیدا کیا۲؎جب اس حد کو پہنچے تواعوذ بااللّٰہپڑھ لو اور اس سے باز رہو۳؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو خود ا بلیس کیونکہ وہ تمام دنیا پر نظر رکھتا ہے اور سب میں چکّرلگاتا رہتا ہے۔یا قرین جو ہر ایک انسان کا الگ الگ شیطان ہے اور ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے یا بُرا انسان جو ایسی باتیں کرکے لوگوں کو بہکائے۔
۲
؎حالانکہ پیدا وہ چیز کی ہے جو ناپید بھی ہوسکے،رب تعالٰی واجب الوجود ہے اُسے کون پیدا کرے،عرضیات کی انتہا ذاتی پر ہے،تمام تارے سورج سے روشن ہیں،مگر سورج کسی سے روشن نہیں۔
۳
؎یعنی اس کا جواب سوچنے کی کوشش بھی مت کرو ورنہ شیطان سوال در سوال کرے گا۔اَعُوذُپڑھ کر اسے بھگا دو ہر سوال کا جواب نہیں دیا جاتا۔ربّ نے شیطان کے سجدہ نہ کرنے پر اس کے دلائل کا جواب نہ دیابلکہ فرمایا:"فَاخرُج منہا"۔خیال رہے کہ"اَعُوْذُ بااللّٰہ"دفع شیطان کے لئے اکسیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 65