Main Icon

باب ۱؎ اور یہ باب پہلی فصل سے خالی ہے ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4262

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنْ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَكُونُ بِأَرْضٍ فَتُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَتٰى يَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ؟ قَالَ: "مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا فَشَأْنَكُمْ بِهَا».مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تَجِدُوا صَبُوحًا أَوْ غَبُوقًا وَلَمْ تَجِدُوا بَقْلَةً تَأْكُلُونَهَا حَلَّتْ لَكُمُ الْمَيْتَةُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

وعن أبي واقد الليثي أن رجلا قال: يا رسول الله إنا نكون بأرض فتصيبنا بها المخمصة فمتى يحل لنا الميتة؟ قال: "ما لم تصطبحوا أو تغتبقوا أو تحتفئوا بها بقلا فشأنكم بها».معناه: إذا لم تجدوا صبوحا أو غبوقا ولم تجدوا بقلة تأكلونها حلت لكم الميتة. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو واقد لیثی سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کسی زمین میں ہوتے ہیں تو ہم کو بھوک پہنچ جاتی ہے ۱؎تو ہمارے لیے مردار کب حلال ہے فرمایا جب کہ تم صبح کو یا شام کو پیالہ نہ پاؤ یا زمین کا ساگ پات بھی نہ پاؤ ۲؎تو تم اس مردار کو اختیارکرلو،اس کے معنی یہ ہیں کہ تم صبح یا شام کو پیالہ نہ پاؤ اور نہ ساگ و پات پاؤ جسے تم کھاؤ تو تمہارے لیے مردار حلال ہے ۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سوال کرنے والے حضرت کوئی اور ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہی فجیع عامری ہوں اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہو۔
۲
؎اس عبارت میںاوبمعنی واؤ ہے جیسے آیت کریمہ میں"عُذْرًا اَوْ نُذْرًا"اوبمعنی واؤ ہے۔(مرقات) یعنی جب تم کو نہ تو صبح یا شام دودھ کا پیالہ نہ ساگ پات ملے نہ گھاس اور درختوں کے پتےملیں جنہیں چباکر تم اپنی جان بچاسکتے ہو تب مردار کھا سکتے ہو ۔(مرقات)
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھاس یا پتے چباکر جان بچ سکتی ہو تو مردار نہ کھائے،اگر یہ بھی میسر نہ ہو تب مردار کھا سکتا ہے۔حضرات صحابہ کرام نے بعض غزوات میں درختوں کے پتے چباکر گزارہ کیا مگر مردار نہ کھایا۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ مردار کھانا جان بچانے کے لیے ہے پیٹ بھرنے کے لیے نہیں،امام شافعی نے بھی آخر میں یہ قول فرمایا اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا،دیکھو مرقات وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4262