Main Icon

باب: متفرق احادیث - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3200

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مَمْلُوكيْنِ لَهَا زَوْجٌ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بالرَّجُلِ قَبْلَ المَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسائِيُّ.

عن عائشة: أنها أرادت أن تعتق مملوكين لها زوج، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم ، فأمرها أن تبدأ بالرجل قبل المرأة. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے اپنے دو زوجین مملوکوں کو آزاد کرنا چاہا ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور نے انہیں حکم دیا کہ عورت سے پہلے مرد سے ابتداء کریں ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎زوجمجرور ہے اس کا تعلق مملوکین سے ہے یعنی عائشہ صدیقہ کے پاس ایسے دو کنیز و غلام تھے جن میں زوجیت کا تعلق تھا کہ عورت بیوی تھی مرد اس کا خاوند،بعض نسخوں میں زوجین ہے مملوکین کی صفت،بعض نسخوں میں عبارت یوں ہےمملوکۃ لھازوجمطلب ایک ہی ہے۔
۲
؎یعنی اے عائشہ نہ تو دونوں خاوند و بیوی کو ایک ساتھ آزاد کرو نہ عورت کو پہلے مرد کو پیچھے،بلکہ پہلے مرد کو آزاد کرو پھر عورت کو،کیونکہ مرد عورت سے افضل ہے لہذا مرد کا آزاد کرنا بھی عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہوا اور افضل کام پہلے کرنا بہتر ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں نہ امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے ہاں اگر زوجین ایک ساتھ ہی آزاد ہوں تو لونڈی کو حق فسخ نہیں ملتا پھر مرد کو پہلے آزاد کرنے کا کیا مطلب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3200