Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 999

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَرَاَ حَرْفًا مِّنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا لَا اَقُوْلُ : الٓـمّٓ حَرْفٌ وَلٰكِنْ اَلِفٌ حَرْفٌ وَلَا مٌ حَرْفٌ وَمِيْمٌ حَرْفٌ.

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من قرا حرفا من كتاب الله فله حسنة والحسنة بعشر امثالها لا اقول : الـم حرف ولكن الف حرف ولا م حرف وميم حرف.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نےقرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہےاورایک نیکی دس کے برابر ہے۔میں نہیں کہتا کہالٓمٓایک حرف ہےبلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔‘‘

شرح حدیث

ہر نیکی کی جزا دس نیکیاں:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ طے شدہ بات ہے کہ ہر نیکی کی جزا کم از کم دس نیکیاں ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ،اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ بات تو تمام نیکیوں میں پائی جاتی ہے پھر قرآنِ پاک کی فضیلت کہاں گئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کے ہر ایک حرف پر نیکی ملنا قرآن کی خاص نیکی ہے کہ اس کے ہر جُزپر ثواب ملتا ہے باقی اعمال میں ایک عمل پر ایک نیکی ملتی ہے نہ کہ اس کے ہر حصے پر ایک نیکی عطا ہوتی ہے ہاں وہ عمل جو چند اعمال سے مل کر پورا ہو وہاں ہرعمل پر جو اس پورے عمل کا حصہ ہوتا ہے نیکی عطا کی جاتی ہے۔حرف سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ یہاں حرف سے مراد وہ حرف ہے جو جدا جدا پڑھا جائے لہٰذاالٓمّٓتین حرف ہیں۔چنانچہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔مگرقوی تر یہ ہے کہ حرف سے مراد مُطْلَقًا حرف ہے علیحدگی کے قابل ہوں یا نہ ہوں کیونکہ حدیث پاک میں کوئی قید نہیں،لہٰذا قرآنِ کریم میں لفظ ﷲ پڑھنے سے چالیس نیکیاں ملیں گی۔ خیال رہے کہ قر آنِ پاک میں خبیث چیزوں کے نام بھی ہیں جیسے ابی لہب، ابلیس شیطان، خنزیر،وغیرہ مگر ان ناموں کی تلاوت پر بھی ثواب اسی حساب سے ہوگا کہ یہ حروف یا ان کے ترجمے بُرے نہیں،بلکہ ان کے مِصداق خبیث ہیں، یہ تحقیق خیال میں رکھی جائے۔الف،لام،میم کو حرف فرمانا مجازًا ہے ورنہ یہ حرفوں کے نام یعنی اسمائے حروف ہیں اس میں لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ الف میں تین حرف ہیں،ا،ل،ف مگر اس کو ہم ایک حرف ہی مانتے ہیں کہ قرآنی تلاوت میں یہ ایک حرف ہوکر آتا ہے،اگرچہ اس کے اجزا تین ہیں بعض شارحین نے کہا کہ﴿ اَلَمْ تَرَ كَیْفَ﴾میںاَلَمْکی تیس نیکیاں ہیں اور﴿الٓمّٓۚ(۱) ذٰلِكَ الْكِتٰبُ ﴾(پ۱،البقرۃ:۲،۱)میںالٓمّٓکی نوے نیکیاں ہیں، کیونکہ اس میں حرف نو ہیں، اسمائے حروف اگرچہ تین ہیں۔ربّ تعالیٰ کافضل شمارسےباہر:حدیثِ پاک میں بیان ہوا:”جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔“ اِس فرمان میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ﴿ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ- ﴾(پ۸،الانعام:۱۶۰)(ترجمۂ کنزالایمان:جو ایک نیکی لائے تو اس کیلئے اس جیسی دس ہیں)یہ توادنیٰ ثواب ہے، آگے رب تعالیٰ کا فضل ہماری شمار سے باہر ہے:﴿ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ- ﴾(پ۳، البقرۃ:۲۶۱)(ترجمۂ کنزالایمان:اوراﷲاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کیلئے چاہے)مرقات میں فر مایا کہ یہ ثواب تو عام تلاوتوں کا ہے،مکہ معظمہ و مدینہ میں تلاوت کا ثواب اس حدیث سے معلوم کر و کہ مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے اور مدینہ پاک میں پچاس ہزار۔“مدنی گلدستہ’’اَجَر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ہر نیکی کی جزا کم از کم دس نیکیاں ہیں اور زیادہ کی کوئی حد نہیں۔
(2) قرآن کے ہر ایک حرف پر نیکی ملنا قرآن کی خاص نیکی ہے کہ اس کے ہر جز پر ثواب ملتا ہے باقی اعمال میں ایک عمل پر ایک نیکی ملتی ہے نہ کہ اس کے ہر حصے پر ایک نیکی عطا ہوتی ہے۔
(3) مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ اور مدینہ پاک میں پچاس ہزار ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارے لیے خوب نیکیوں کا ذخیرہ جمع ہوسکے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 999