Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 998

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَـرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ رَجُلٌ يَقْرَاُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا اَصْبَحَ اَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ:تِلْكَ السَّكِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ لِلقُرْآنِ.

عن البـراء بن عازب رضي الله عنهما قال:كان رجل يقرا سورة الكهف وعنده فرس مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدنو وجعل فرسه ينفر منها فلما اصبح اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال:تلك السكينة تنزلت للقران.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا براء بن عازبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سورۂ کہف کی تلاوت کررہا تھا اور پاس ہی اس کا گھوڑا دو لمبی رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک ایک بادل گھوڑے پر سایہ فگن ہوا اور قریب ہوتا گیا یہاں تک کہ گھوڑااچھلنے کودنےلگا۔صبح ہوئی تووہ شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا ۔نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:یہ سکینہ تھا جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوا۔

شرح حدیث

سورۂ کہف پڑھنے والی شخصیت:علامہ ابو حفص عمر بن علی المعروف ابنِ مُلَقِّنرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:سورۂ کہف پڑھنے والے یہ شخص حضرت سَیِّدُنَا اُسید بن حُضَیْررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتھے،اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کے سوا دیگر مخلوق بھی قرآن سنتی ہے۔سکینہ کیا ہے؟شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:سکینہ بمعنی آرام وآہستگی اور بمعنی رحمت بھی آتا ہےاور اُس چیز پر بھی اِس کا اِطلاق ہوتا ہےجس سے سکون اور صفائی قلب حاصل ہو، جس سے نفسانی تاریکی دور ہو اور ضیائے رحمت،حضورِذوق وغنیمت نصیب ہو۔یہ سکینہ کبھی ابرِ رحمت کی شکل وغیرہ میں بھی نمودار ہوتا ہے۔مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:فرشتوں کی ایک جماعت کا نام سکینہ ہے چونکہ ان کے اترنے سے مؤمن کے دل کو سکون و چین حاصل ہوتا ہے اس لیے اسے سکینہ کہتے ہیں ۔مؤمن پر بعض خاص حالات میں بھی اور خاص عبادات کے موقعہ پربھی یہ فرشتے اترتے ہیں۔ ربّ تعالیٰ ہجرت کے غار کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے حضرت صدیق اکبر کےمتعلق فرماتا ہے:﴿ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ﴾(پ۱۰،التوبۃ:۴۰)(ترجمۂ کنزالایمان:تواﷲنے اس پر اپنا سکینہ (اطمینان)اتارا)صدیقِ اکبر کو اس وقت حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا بہت غم اور کفار کا اندیشہ تھا اسی لیے ان پر سکینہ اُتری۔خیال رہے کہ بزرگوں کے تبرکات سے بھی سکونِ قلبی نصیب ہوتا ہے انہیں بھی رب تعالیٰ نے سکینہ فرمایا ہے۔چنانچہ تابوتِ سکینہ جس میں حضرت موسیٰ و ہارونعَلَیْہِمَا السَّلَامکے تبرکات عمامہ نعلین وغیرہ تھے ان کےمتعلق ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ- ﴾(پ۲،البقرۃ:۲۴۸)(ترجمۂ کنزالایمان:جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔) بعض لوگ قبروں پرتلاوتِ قرآنِ پاک کراتے ہیں تاکہ اس تلاوت سے میت کو سکونِ قلبی نصیب ہو اس کا ماخذ یہ حدیث ہے اوربعض لوگ اپنی قبروں میں اپنے بزرگوں کے تبرکات عمامہ وغیرہ اور اپنا شجرہ، آیات قرآنیہ رکھ دینے کی وصیت کرتے ہیں تاکہ سکونِ قبر میسر ہو ان کا ماخذ قرآن کریم کی مذکورہ آیت ہے۔صحابہ کرام نے اپنے کفنوں میں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ناخن،بال تہبند شریف رکھوائے،خود حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنی بیٹی بی بی زینب کے کفن میں اپنا تہبند شریف رکھا۔بندۂ مومن کی تائید:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:بندوں پر ان جیسی نشانیوں کا ظہوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے بندۂ مومن کی تائید ہےجسے دیکھ کر مومن بندے کا یقین اور ایمان پر قلبی اطمینان بڑھتا ہے۔سورۂ کہف کے دو فضائل:دوفرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)”جو سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا وہ دجال (کے فتنے)سے محفوظ رہے گا۔“(2)”جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کرے گا تواس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان نور روشن ہوگا۔“مدنی گلدستہ’’سکینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) انسانوں کے سوا دیگر مخلوق بھی قرآن سنتی ہے۔
(2) فرشتوں کی ایک جماعت کا نام سکینہ ہے چونکہ ان کے اترنے سے مؤمن کے دل کو سکون و چین حاصل ہوتا ہے اس لیے اسے سکینہ کہتے ہیں۔مؤمن پر بعض خاص حالات میں بھی اور خاص عبادات کے موقعہ پربھی یہ فرشتے اترتے ہیں۔
(3) بزرگوں کے تبرکات سے بھی سکونِ قلبی نصیب ہوتا ہے انہیں بھی رب تعالیٰ نے سکینہ فرمایا ہے۔ چنانچہ تابوتِ سکینہ میں حضرت موسیٰ و ہارون
عَلَیْہِمَا السَّلَامکے تبرکات عمامہ نعلین وغیرہ تھے۔
(4) صحابہ کرام نے اپنے کفنوں میں حضور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ناخن،بال تہبند شریف رکھوائے،خود حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنی بیٹی بی بی زینب کے کفن میں اپنا تہبند شریف رکھا۔
(5) سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یادکرنے والا دجال کے فتنےسے محفوظ رہے گا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سورۂ کہف یاد کرنے اور اس کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 998