Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 992

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالقُرْآنِ وَاَهْلِهِ الَّذِيْنَ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا.

عن النواس بن سمعان رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يؤتى يوم القيامة بالقرآن واهله الذين كانوا يعملون به في الدنيا تقدمه سورة البقرة وال عمران تحاجان عن صاحبهما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنانَوَّاس بن سَمْعانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں نے حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”قیامت کے دن قرآنِ پاک اور اس پر عمل کرنے والوں کویوں لایا جائے گاکہ سورۂ بقرہ وآلِ عمران آگے ہوں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔“

شرح حدیث

جھگڑنے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(یہ سورتیں)یا تو اس کے دشمنوں سے جھگڑا کریں گی یا عذاب کے فرشتوں سے جھگڑکر اسے چھڑائیں گی یا خود رب تعالیٰ سے جھگڑ جھگڑ کر اسے بخشوائیں گی مگر یہ جھگڑا ناز کا ہوگا ۔“مزید آگے چل کر فرماتے ہیں: ”(بروزِ قیامت)یہ سورتیں بعض بڑے مخلصین کے لیے سفید بادل کی طرح اور ان سے کم درجہ والوں کے لیے سیاہ شامیانہ کی طرح اوپر سایہ کئے ہوں گی،جن سے یہ لوگ گرمیٔ محشر سے محفوظ ہوں گے ۔یہ بادل و شامیانے ان لوگوں کے ساتھ چلتے ہوں گے تمام محشر والے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیں گے کہ یہ حضرات قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔“سورۂ بقرہ وآلِ عمران کے آگے ہونے کی وجہ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں اس بات کا اعلان ہے کہ جو قرآن پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے ،اس کے حرام کو حرام نہ جانے،اس کے حلال کو حلال نہ سمجھے اور اس کی عظمت کا اعتقاد نہ رکھے تو قرآن پاک قیامت کے دن اس کی شفاعت نہ کرے گا۔سورۂ بقرہ وآلِ عمران کے قرآن کے آگے ہونے میں اس بات پر دلیل ہے کہ یہ دونوں سورتیں دوسروں سے بہت عظیم ہیں کیونکہ یہ طویل ہیں اور ان میں بہت سے احکامات ہیں۔“سورۂ بقرہ کے فضائل:اَحادیث میں سورۂ بقرہ کے بہت سےفضائل بیان کئے گئے ہیں،پانچ فرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)”سورۂ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ ا س کو پڑھتے رہنے میں برکت ہے اور نہ پڑھنے میں (ثواب سے محروم رہ جانے پر) حسرت ہے اور جادو گر اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔“(2)’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ(یعنی اپنے گھروں میں عبادت کیا کرو) اور شیطان ا س گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔“(3)”جو شخص رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لے گا تو وہ اسے(آفات سے) کافی ہوں گی۔“(4)’’ہر چیز کی ایک بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورہ ٔ بقرہ ہے، اس میں ایک آیت ہے جو قرآن کی(تمام )آیتوں کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے۔“(5)’’جس نے دن کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تو تین دن تک شیطان اس کے گھر کے قریب نہیں آئے گا اورجس نے رات کے وقت اپنے گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تو تین راتیں ا س گھر میں شیطان داخل نہ ہو گا ۔“سورۂ آلِ عمران کے فضائل:اس سورت کےمختلف فضائل بیان کیے گئے ہیں جن میں سے دو فضائل درج ذیل ہیں:(1)حضرت سَیِّدُناعثمان بن عفانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:’’جو شخص ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری (گیارہ) آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔“(2)حضرت سَیِّدُنا مکحولرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’جو شخص جمعہ کے دن سورۂ آلِ عمران کی تلاوت کرتا ہے تو رات تک فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔“مدنی گلدستہ’’البقرہ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) قرآنِ پاک پر عمل کرنے والوں کےلئے سورۂ بقرہ وآلِ عمران شفاعت کریں گی اور ان پر محشر کی گرمی میں سایہ کئے ہوں گی۔
(2) سورۂ بقرہ پڑھنے سے برکت ہوتی ہے اور شیطان ا س گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے
(3) رات کو سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھنے سے آفات سے حفاظت رہتی ہے۔
(4) آیت الکرسی قرآن کی تمام آیتوں کی سردار ہے۔
(5) جو ر ات میں سورۂ آلِ عمر ان کی آخری گیارہ آیتیں پڑھے گا تو اس کے لیے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا۔
(6) جمعہ کے دن سورۂ آلِ عمران کی تلاوت کرنے والے کے لئے رات تک فرشتے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پاک بالخصوص سورۂ بقرہ اور آلِ عمران کی تلاوت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کی برکتوں سے مالا مال کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 992