Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 995

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ.

عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل المؤمن الذي يقراالقران مثل الاترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرا القران كمثل التمرة لاريح لها وطعمها حلو ومثل المنافق الذي يقرا القرآن كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل المنافق الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“

شرح حدیث

نارنگی سے تشبیہ دینے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”قرآن پاک پڑھنے والے مومن کو نارنگی کے ساتھ اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ تمام شہروں میں پائے جانے والے پھلوں میں سب سے بہترین پھل ہے۔اس میں بکثرت صفات مطلوبہ اور خواص ہیں ۔مثلاً اس کا سائز بڑا ہوتا ہے اور دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے،اس کا ذائقہ اچھا اور چھونے میں نرم ہوتا ہے،اس کا رنگ ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر دیکھنے والے خوش ہوتے ہیں اور طبیعت اس کی طرف مائل ہوتی ہے۔ا سے کھانےسے لذت اور عمدہ مہک کے ساتھ ساتھ معدے اور نظامِ ہضم کی بھی اصلاح ہوتی ہے۔اس سےدیکھنے ،چکھنے،سونگھنے اور چُھونے کی قوت میں تقویت حاصل ہوتی ہے۔یہی نہیں بلکہ اس کے اَجزا کی بھی مختلف تاثیرات ہیں ۔اس کا چھلکا گرم خشک،اس کا گودا گرم تراور اس کی کھٹاس سرد خشک ہے اور اس میں مزید بہت سے فوائد بھی ہیں۔“عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایمان کی صفت کو ذائقہ سے اور تلاوت کو خوشبو سے مخصوص کیا ہےکیونکہ ایمان مومن کو قرآن سے زیادہ لازم ہےیہی وجہ ہے کہ قرآن پڑھے بغیر بھی ایمان کا حصول ممکن ہے۔یونہی ذائقہ جَوہَر(چیزواصل) کے لیے خوشبو سے زیادہ لازم ہےکہ کبھی جوہر کی خوشبو چلی جاتی ہے اور ذائقہ باقی رہتا ہے۔ دوسرے پھلوں کو چھوڑ کرنارنگی کے ساتھ مثال دینے کی حکمت یہ ہے کہ نارنگی کی خوشبو بھی اچھی اور اس کا ذائقہ بھی عمدہ ہے۔ اس کے چھلکوں سے دوائی بنائی جاتی ہے جو فرحت بخش ہوتی ہےاور اس کے بیج سے تیل نکلتا ہے جس کے بہت سے فوائد ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس گھر میں نارنگی ہوں جنات اس گھر کے قریب نہیں جاتے لہٰذا نارنگی کے ساتھ تشبیہ دینا مناسب تھا کہ جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہاں شیاطین نہیں جاتےاور اس کے بیج کا غلاف سفید ہے جس سے مومن کے دل کی مناسبت ہے۔“کلامِ مجید کا بندے کے ظاہروباطن پر اثر:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اس حدیثِ پاک میں حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے معقول چیز کو محسوس چیز سے تشبیہ دی ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے کلامِ مجید کا بندے کے ظاہر اور باطن پر اثر ہوتا ہے اور بندے اس تاثیر کے حوالے سے مختلف ہیں۔کسی کو اس تاثیر سے وافر حصہ ملتا ہے اور وہ مومن قاری ہے،کسی کو اس میں سے کچھ حصہ نہیں ملتا اور وہ منافق حقیقی ہے۔کوئی وہ ہے جس کے ظاہر پر اثر ہوتا ہے لیکن باطن پر نہیں اور وہ ریاکار ہے اور کسی کے باطن پر اثر ہوتا ہے لیکن ظاہر پر نہیں اور وہ قرآن نہ پڑھنے والا مومن ہے۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے،ایک یہ کہ تلاوتِ قرآن کا اثر ظاہر و باطن میں ہوتا ہے کہ اس سے زبان، کان،دل،دماغ ایمان سب ہی تازہ ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ قرآنِ پاک کی تاثیر یں مختلف ہیں جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسے ہی تاثیرِ قرآن۔حضرت بابا فرید الدین گنج شکررَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہنے انڈے پر”قُلْ ھُوَ اﷲ“پڑھ کر دم کردیا تو سونا ہوگیااور فرمایا کہ کلامِ رَبَّانی کے ساتھ زبانِ فرید ہونی چاہیے۔ دیکھو یہاں مؤمن ومنافق کی تلاوتوں میں فرق فرمایا گیا پھر جیسا مؤمن ویسی ہی تلاوت کی تاثیر۔ تیسرے یہ کہ ہر تلاوتِ قرآن کرنے والے سے دھوکہ نہ کھاؤ ان میں کبھی منافق بھی ہوتے ہیں۔تلاوت والے کے دل کی سوئی اگر شیطان کی طرف لگی ہوئی ہے تو اس کے سامنے تو قرآن ہوگا مگر اس کے منہ سے شیطان بولے گا اور اگر دل کی سوئی مدینہ پاک کی طرف ہے تواِنْ شَآءَاﷲزبان سے مدینہ کے فیضان نکلیں گے۔مدنی گلدستہ’’مومن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی جیسے خوشبودار پھل کی طرح ہے جس کا ذائقہ عمدہ ہے جبکہ قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس میں خوشبوتو نہیں لیکن مٹھاس ہے۔
(2) قرآن پاک پڑھنے والے مومن کو نارنگی کے ساتھ اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ پھلوں میں سب سےبہترین پھل ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہیں۔
(3) تلاوت قرآن کا اثر ظاہر و باطن میں ہوتا ہے کہ اس سے زبان، کان،دل،دماغ اور ایمان سب ہی تازہ ہوتے ہیں۔
(4) قرآنِ پاک کی تاثیر یں مختلف ہیں جیسے پڑھنے والے کی زبان ویسی ہی تاثیر چنانچہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ
اﷲعَلَیْہ نے انڈے پر سورۂ اخلاص پڑھ کر دم کیا تو وہ سوناہوگیا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ تلاوت قرآن کا اثر ہمارے ظاہر وباطن میں پیدا کردے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 995