- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُناابوامامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں نےحضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”قرآنِ پاک پڑھو بے شک یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا۔“
عَنْ اَبِیْ اُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اِقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَاِنَّهُ يَاْتِىْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيْعًا لِاَصْحَابِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 991 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنانَوَّاس بن سَمْعانرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ میں نے حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا:”قیامت کے دن قرآنِ پاک اور اس پر عمل کرنے والوں کویوں لایا جائے گاکہ سورۂ بقرہ وآلِ عمران آگے ہوں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔“
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالقُرْآنِ وَاَهْلِهِ الَّذِيْنَ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 992 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُناعثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ مقبولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ “
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 993 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہے وہ معزز فرشتوں اور محترم ومُعَظَّم نبیوں کے ساتھ ہوگااور جو قرآن پڑھتا اور اس میں اٹکتا ہے اور پڑھنےمیں اسے مشکل پیش آتی ہے تو اُس کے لیے دُگنا ثواب ہے۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيْهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ اَجْرَانِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 994 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“
عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 995 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بلاشُبہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس قرآنِ پاک کے ذریعے کچھ لوگوں کوبلندی اور کچھ کو پستی عطا کرتا ہے۔“
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ اَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 996 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضورِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”حسد نہیں مگر دو شخصوں پر ،ایک وہ جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن کا علم دیا وہ رات دن اسے پڑھتا ہےاور دوسرا وہ شخص جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مال دیا وہ رات دن اس سے خیرات کرتا ہے۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لَا حَسَدَ اِلَّا فِى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَار.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 997 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا براء بن عازبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سورۂ کہف کی تلاوت کررہا تھا اور پاس ہی اس کا گھوڑا دو لمبی رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک ایک بادل گھوڑے پر سایہ فگن ہوا اور قریب ہوتا گیا یہاں تک کہ گھوڑااچھلنے کودنےلگا۔صبح ہوئی تووہ شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا ۔نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:یہ سکینہ تھا جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوا۔
عَنِ الْبَـرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ رَجُلٌ يَقْرَاُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوْطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا اَصْبَحَ اَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ:تِلْكَ السَّكِيْنَةُ تَنَزَّلَتْ لِلقُرْآنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 998 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس نےقرآن کا ایک حرف پڑھا اس کے لیے ایک نیکی ہےاورایک نیکی دس کے برابر ہے۔میں نہیں کہتا کہالٓمٓایک حرف ہےبلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ قَرَاَ حَرْفًا مِّنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ حَسَنَةٌ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا لَا اَقُوْلُ : الٓـمّٓ حَرْفٌ وَلٰكِنْ اَلِفٌ حَرْفٌ وَلَا مٌ حَرْفٌ وَمِيْمٌ حَرْفٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 999 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1000 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمْرورَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:”قرآن والےسے کہا جائے گاپڑھ اورترقی کرتا جا اور یوں آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھاآج تیرا ٹھکانااورمقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۔“
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ:اقْرَاْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَاِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ اٰخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1001 ، باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت