Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 996

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ اَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ.

عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ ان النبی صلى الله عليه وسلم قال: ان الله يرفع بهذا الكتاب اقواما ويضع به آخرين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بلاشُبہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس قرآنِ پاک کے ذریعے کچھ لوگوں کوبلندی اور کچھ کو پستی عطا کرتا ہے۔“

شرح حدیث

کسے بلندی اور کسے پستی ملتی ہے؟شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قرآن پاک ان لوگوں کوبلندی عطا کرتا ہے جو اس پر ایمان لاتے،اس پرعمل کرتے، اس کی تلاوت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اخلاص قائم رکھتے ہیں اور جو اس کا خلاف کرتے ہیں ان لوگوں کو ذلیل وپست کرتا ہے ۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:جس نے قرآن پاک کو پڑھا اور خلوص کے ساتھ اس پر عمل کیااﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے بلندی عطا کرے گااور جس نے ریاکاری کے لیے پڑھااﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے نہایت ذلت اور پستی عطا کرے گا۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:جو مسلمان قرآنِ کر یم کو صحیح طرح سمجھیں صحیح طرح عمل کریں تو وہ دنیا و آخرت میں بلند درجے پائیں گے اور جو اس سے غافل رہیں،یا غلط طرح سمجھیں،غلط طور پر عمل کریں وہ دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔قرآن کریم سے زندگی و موت طیب(پاکیزہ) ہوتی ہے یہ محبوبین کے لیے ماء( پانی) ہےاور مَحجوبین(غفلت ودوری میں رہنے والوں)کے لیے دِماء (خون) ہے۔اب بھی قرآن پاک کے صحیح متبع بڑی عظمت وعزت کے مالک ہیں۔قاریِ قرآن مکہ کا گورنر:امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی مقامِ”عُسفان“پر حضرت سَیِّدُنَا نافع بن عبد الحارث خُزاعیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی جو آپ کی طرف مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔انہیں دیکھ کر پوچھا:”تم نے اپنی غیر موجودگی میں مکہ مکرمہ کا گورنر کسے مقررکیا ہے؟“کہا:اِبنِ اَبزٰی کو۔ پوچھا:”کون ابنِ ابزٰی؟“کہا:ہمارا ایک آزاد کردہ غلام ہے۔فرمایا:”تم نے ایک غلام کو ان پر حاکم بنادیا؟“ کہا:وہ قرآن مجید کا قاری اور فرائض کا علم رکھتا ہے۔یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:سنو!تمہارے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بلاشبہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس قرآن پاک کے ذریعے کچھ لوگوں کوبلندی اور کچھ کو پستی عطا کرتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) قرآن اُن لوگوں کوبلندی عطا کرتا ہے جو اُس پر ایمان لاتے،اس پرعمل کرتے، اس کی تلاوت کرتے ہیں اور ساتھ ہی اخلاص قائم رکھتے ہیں اور جو اس کے برعکس عمل کرتے ہیں ان لوگوں کو ذلیل وپست کرتا ہے ۔
(2) قرآنِ کریم سے زندگی اور موت طیب(پاکیزہ) ہوتی ہے۔
(3) حکومتی عہدے پر قاریٔ قرآن اور عالِم دِین کوفائز کرنا چاہیے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کے ذریعے بلندی عطا کرے اور پستی سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 996