Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 994

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيْهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ اَجْرَانِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الذي يقرا القرآن وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة والذي يقرا القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له اجران.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس میں ماہر ہے وہ معزز فرشتوں اور محترم ومُعَظَّم نبیوں کے ساتھ ہوگااور جو قرآن پڑھتا اور اس میں اٹکتا ہے اور پڑھنےمیں اسے مشکل پیش آتی ہے تو اُس کے لیے دُگنا ثواب ہے۔“

شرح حدیث

ماہرِ قرآن کون؟مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”قرآن کریم کا ماہروہ عالِم ہے جو الفاظِ قرآن،معانی ومسائلِ قرآن،اَسرار ورُمُوزِ قرآن کا واقف ہو۔سُبْحَانَ اﷲعالِم بالقرآن کا تووہ مرتبہ ہے جو ابھی (حدیث میں)ذِکر ہوااورجوکُند ذہن،موٹی زبان(یعنی حروف والفاظ صحیح ادا نہ کرسکنے) والا قر آنِ پاک سیکھ تو نہ سکے مگر کوشش میں لگا رہے کہ مرتے دم تک کوشش کئے جائے وہ ڈبل ثواب کا مستحق ہے،شوق محنت(کی وجہ سے)۔خیال رہے کہ یہ دوگنا ثواب عالِمِ قرآن کے مقابلہ میں نہیں ہے،عالِمِ قر آن تو فرشتوں نبیوں اور صحابہ کے ساتھ ہے بلکہ اس کے مقابلہ میں ہے جو بے تکلف قرآن پڑھ کر بس کردے۔“ملائکہ اور انبیا کا ساتھ:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”جو بندہ حفظ وتجویدِ قرآن میں تیز ،اسے اچھی طرح جاننے والا اور ماہر ہو وہ ملائکہ اور انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکے ساتھ ہے کہ یہ حضرات بزرگ و نیکوکار لوگ ہیں چونکہ یہ شخص دنیا میں ان جیسے نیک کام کرنے والا ہے تو دنیا میں عمل کی صورت میں ان کے ساتھ ہےاور آخرت میں بھی ان کا رفیق اور ساتھی ہوگا۔جوشخص قرآن اٹک کر پڑھتا ہے اگرچہ قرآن کا ماہر اور جامع عالِم اس سے افضل واکمل ہےمگر مشقت ودِقّت اٹھانے کے لحاظ سے اس دوسرے شخص کوبھی فضیلت حاصل ہے اور اجروثواب بھی۔اس سے حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مراد ایسے شخص کوتسلی دینا ،اسے ثابت قدم رکھنا اور ریاضت ومشقت پر قائم (پابند)کرنا ہے۔“مدنی گلدستہ’’رُسُل‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) قرآنِ پاک کاماہر عالِم مکرَّم فرشتوں اور انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکے ساتھ ہوگا۔
(2) قرآنِ کریم کا ماہروہ عالِم ہے جو اَلفاظِ قرآن،مَعانی ومَسائلِ قرآن اَسرار و رُمُوزِقرآن کا واقف ہو۔
(3) جو قرآن اٹک اٹک کرپڑھتا ہے اور اُسے پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے تو اُس کے لئے دُگنا ثواب ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کا عالِم اور ماہر بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 994