Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1001

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ:اقْرَاْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَاِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ اٰخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا.

عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:يقال لصاحب القران:اقرا وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا فان منزلتك عند اخر اية تقرؤها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمْرورَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے:”قرآن والےسے کہا جائے گاپڑھ اورترقی کرتا جا اور یوں آہستگی سے تلاوت کر جیسے دنیا میں کرتا تھاآج تیرا ٹھکانااورمقام وہاں ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے۔“

شرح حدیث

قرآن والے سے مراد:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قرآن والے سے وہ شخص مراد ہے جو قرآن کی تلاوت کا عادی اور اس پر عمل پیرا ہے۔اس سے کہا جائے گا: قرآن حکیم پڑھ اور جس قدر قرآنی آیات پڑھ سکتاہے درجاتِ جنت میں اوپر کو بلند ہوتا جا، پھر اگر سارا قرآن پڑھے گا تو جنت کے ان آخری درجات تک پہنچ جائے گا جو اس کے لیے تیار کئے گئے اور اس کے لائقِ حال ہوں گے۔یہ امر وحکم تمام اصحابِ قرآن کو شامل ہے خواہ انبیاء ومُرسلین ہوں یا اولیاوعلما اور دوسرے تمام صالحینِ کرام ان کے درجات کے مطابق۔جنت کے6666درجات:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:جنت کے درجات اوپر تلے ہیں جس قدر درجے کی بلندی،اسی قدر بہتراِنْ شَآءَ اﷲاس دن تلاوتِ قرآن مؤمن کے لیے پروں کا کام دے گی یا اس سے مراتبِ قربِ الٰہی میں ترقی کرنا مراد ہےیعنی تلاوت کرتا جا اور مجھ سے قریب تر ہوتا جا جہاں تیرا پڑھنا ختم،وہاں تیرا چڑھنا ختم،وہاں اسی قدر تلاوت کرسکے گا جس قدر تلاوت دنیا میں کرتا تھا اور جس طرح آہستہ یا جلدی یہاں تلاوت کرتا تھا اسی طرح وہاں کرے گا۔اس سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنت کے چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ (6666)درجے ہیں کیونکہ قرآن کریم کی آیات(مشہورقول کے مطابق)اتنی ہی ہیں اور ہر آیت پر ایک درجہ ملتا ہے۔اگر درجے اس سے کم ہوں تو یہ حساب کیسے درست ہو اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان۔
دوسرے یہ کہ جنت میں کوئی عبادت نہ ہوگی سوائے تلاوتِ قرآن کے،مگر یہ تلاوت لذت اور ترقیٔ درجات کے لیے ہوگی جیسے فرشتوں کی تسبیح۔
تیسرے یہ کہ دنیا میں تلاوتِ قرآنِ کر یم کا عادی بعدِ موت
اِنْ شَآءَ اﷲحافظِ قرآن ہوجائے گا ورنہ یہ شخص وہاں بغیر قرآن دیکھے سارا قرآن کیسے پڑھتا۔
چوتھے یہ کہ بغیر ترجمہ سمجھے بھی تلاوت بہت مفید ہے کہ یہاں تلاوت کو مُطلَق (بلاقید)رکھا گیا۔ یہاں (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ قرآن میں تفکر(سوچ بچار) کرنامحض تلاوت سے افضل ہے،اسی لیے حضرت صدیق اکبر حُفَّاظ صحابہ سے افضل ہوئے،جنت میں ساری اُمَّت سے اونچے درجے میں وہ ہی ہوں گے۔
مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) قرآنِ پاک کی آیات کے برابرجنت میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ (6666)درجے ہیں ۔
(2) جنت میں تلاوتِ قرآن کے علاوہ کوئی عبادت نہ ہوگی اور یہ تلاوت بھی لذت اور ترقیٔ درجات کے لیے ہوگی جیسے فرشتوں کی تسبیح۔
(3) دنیا میں تلاوتِ قرآن کر یم کا عادی بعدِ موت اِنْ شَآءَ اﷲ حافظِ قرآن ہوجائے گا۔
(4) قرآنِ کریم میں غوروفکر کرنا تلاوت سے افضل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےدعا ہے کہ وہ ہمیں تلاوت قرآن کا عادی اور اس پر عمل پیرا ہونے والا بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1001