Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 993

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ

عن عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ قال قال رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم:خيركم من تعلم القرآن وعلمه

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعثمانِ غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ مقبولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ “

شرح حدیث

قرآن سیکھنے سکھانے سے مراد:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وُسعت ہے، بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علما کا قرآنی اَحکام بذریعۂ حدیث وفقہ سیکھنا سکھانا، صوفیائے کرام کا اَسرار و رُموزِ قرآن بسلسلۂ طریقت سیکھنا سکھانا، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔ صرف الفاظِ قرآن کی تعلیم مراد نہیں،لہٰذا یہ حدیث فقہا کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوتِ قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ اَحکامِ قرآن ہے اور تلاوت میں الفاظِ قرآن چونکہکَلامُ اﷲتمام کلاموں سے افضل ہے لہٰذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے بہتر اور اسرار ِقرآن الفاظِ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظِ قرآن کا نزول حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے کان مبارک پر ہوا اور اَسرار و اَحکام کا نزول حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دِل پرہوا۔تلاوت سے عِلمِ فقہ افضل، رب تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾(پ۱،البقرۃ:۹۷)(ترجمۂکنزالایمان:تواس(جبریل)نے تو تمہارے دل پراﷲکے حکم سے یہ قرآن اتارا۔)عمل بالقرآن علمِ قرآن کے بعد ہے لہٰذا عالِم عامِل سے افضل ہے۔آدمعَلَیْہِ السَّلَامعالِم تھے فرشتے عامِل مگر حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامافضل و مسجود رہے۔“قرآن پڑھنا افضل ہے یا فقہ سیکھنا؟علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کا پڑھنا تمام نیک اعمال سے افضل ہےچونکہ جو شخص قرآن سیکھے اور پڑھائے وہ تمام لوگوں سے بہترین شخص ہے تو قرآن پڑھنا لازمی طور پر سب نیک اَعمال سےافضل ہوگا۔اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ قرآن پڑھنا اور سیکھنا افضل ہے یا فقہ سیکھنا افضل ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ابنِ جوزی (رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ)نے کہا:ان دونوں میں سے جو لازم اور ضروری ہےوہ ہرانسان پر فرض ہے۔سارا قرآن اور ساری فقہ سیکھنا فرضِ کفایہ ہے،جب بعض لوگ سیکھ لیں تو باقی لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔اگر لوگوں کے حق میں قدرِ واجب پر اِن دونوں میں سے زیادہ میں کلام کریں(یعنی قدرِ واجب کے بعد ان دونوں میں سے کون افضل ہے؟)تو فقہ میں مشغول ہونے والا افضل ہے کیونکہ دِینی مسائل جاننے اور اسلام کی راہِ ہدایت معلوم کرنے کے لوگ محتاج ہیں۔اس سے یہ گمان نہ کرنا کہ فقہ قرآن سے افضل ہے کیونکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے مبارک زمانہ میں قرآنِ کریم کا قاری بہت بڑا فقیہہ ہوتا تھا اس لیے نماز میں قاری کو مُقَدَّم کیا گیا ہےکیونکہ وہ فقیہہ ہونے کے علاوہ قاری بھی ہے۔“( )مدنی گلدستہ’’تلاوت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بچوں کو قرآن کے ہجے سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علما کا قرآنی اَحکام بذریعۂ حدیث وفقہ سیکھنا سکھانا، صوفیائے کرام کا اَسرار ورُمُوزِقرآن بسلسلہ ٔطریقت سیکھنا سکھانا، سب قرآن ہی کی تعلیم ہے۔
(2) فقہ سیکھنا تلاوت قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ احکامِ قرآن ہے۔
(3) اسرارِ قرآن الفاظِ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظِ قرآن کا نزول حضورِ انور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے کان مبارک پر ہوا اور اَسرار و اَحکام کا نزول حضورِ اَنورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دِل پرہوا۔
(4) عمل بالقرآن علمِ قرآن کے بعد ہے لہٰذا عالِم عابِد سے افضل ہے ۔
(5) بقدرِضرورت قرآن اور فقہ سیکھنا ہرمسلمان پر فرضِ عین ہے اور سارا قرآن اور ساری فقہ سیکھنا فرضِ کفایہ ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن پڑھنے،سمجھنے اور دوسروں کو پڑھانے،سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 993