Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1000

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الذي ليس في جو فه شيء من القران كالبيت الخرب.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“

شرح حدیث

ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔شعر
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:قرآن کا سینے میں جمع کرنا گویا اسے آباد کرنا اور قلت وکثرت کے لحاظ سے مزین کرنا ہے۔ جب دل قرآن کی ضروری تصدیق،اسے حق سمجھنے،اس کے ذریعےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں میں غوروفکر کرنے اور اس کی محبت وصفات میں نظر کرنے سے خالی ہوگاتو وہ دل ویران گھر کی طرح ہوگا جو خوبصورتی اور سامان سے خالی ہوتا ہے۔
شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:ظاہراً اس حدیث سے مراد یہ ہے جسے اتنا بھی قرآن یاد نہ ہو جس سے نماز درست ہوسکے اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔بعض علما نے اس کو عام رکھا ہے اور کہا ہے کہ ناظرہ یا حفظ کسی طرح قرآن نہ پڑھتا ہو اس کا سینہ ویران گھر کی طرح ہے۔مدنی گلدستہ’’حرم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) گھر کی آبادی انسان و سامان سے،دل کی آبادی قرآن سےجبکہ روح کی آبادی ایمان سے ہے۔
(2) جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان اور سامان سے خالی گھر۔
(3) قرآن کا سینے میں جمع کرنا گویا اسے آباد کرناہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو قرآن سے آباد کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1000