Main Icon

باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 997

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لَا حَسَدَ اِلَّا فِى اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُوْمُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَار.

عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما عن النبى صلى الله عليه وسلم: قال لا حسد الا فى اثنتين رجل اتاه الله القران فهو يقوم به اناء الليل واناء النهار ورجل اتاه الله مالا فهو ينفقه اناء الليل واناء النهار.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتےہیں کہ حُضورِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”حسد نہیں مگر دو شخصوں پر ،ایک وہ جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن کا علم دیا وہ رات دن اسے پڑھتا ہےاور دوسرا وہ شخص جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مال دیا وہ رات دن اس سے خیرات کرتا ہے۔“

شرح حدیث

حسد سے مراد:
∞صدرُالشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”(یہاں)حسد سے مراد غِبطہ ہے جس کو لوگ رشک کہتے ہیں، جس کے یہ معنیٰ ہیں کہ دوسرے کو جو نعمت ملی ویسی مجھے بھی مل جائے اوریہ آرزو نہ ہو کہ اسے نہ ملتی یا اس سے جاتی رہے اور حسد میں یہ آرزو ہوتی ہے، اسی وجہ سے حسد مذموم ہے اور غبطہ مذموم نہیں۔ (اس حدیث کے )یہ معنی ہوئے کہ یہی دوچیزیں غبطہ کرنے کی ہیں، کہ یہ دونوں خدا کی بہت بڑی نعمتیں ہیں غبطہ ان پر کرنا چاہیے نہ کہ دوسری نعمتوں پر۔“مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں حسد بمعنی غبطہ،رشک ہے۔ حسد تو کسی پر جائز نہیں نہ دنیا دار پر نہ دِین دار پر۔شیطان کو حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامپر حسد ان کی دینی عظمت پر ہوا تھا نہ کہ دنیاوی مال و دولت پر،مگر مارا گیا ۔حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے کی نعمت پر جلنا اور اس کا زوال چاہنا،رشک کے معنیٰ ہیں دوسرے کی سی نعمت اپنے لیے بھی چاہنا ۔دینی چیزوں میں رشک جائز ہے۔“( )حضرت سَیِّدُنا میرکرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حسد کی دو قسمیں ہیں: (1)حقیقی اور(2)مجازی۔ حقیقی یہ ہے کہ اپنے بھائی سے نعمت کا زوال چاہنا ۔یہ صریح حرام ہے اور مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے۔جو مجازی ہے وہ رشک ہے اور وہ یہ ہےکہ اپنے بھائی سے نعمت کا زوال چاہے بغیر ایسی ہی نعمت اپنے لیے چاہنا۔رشک دنیاوی اُمور میں مباح اور نیکی کے کاموں میں مستحب ہے۔رات دن قرآن پڑھنے سے مراد:حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا کہ ”ایک وہ جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن کا علم دیا وہ دن رات اسے پڑھتا ہے۔“یعنی عالِمِ دِین ہو دن رات نمازیں پڑھتا ہو قرآن پر عمل کرتا ہو ہر وقت اس کے مسائل سوچتا ہو،اس میں غور و تامُّل کرتا ہو،”يَقُوْمُ“(دن ورات میں اسے پڑھتا ہو)میں یہ سب کچھ داخل ہے۔مبارک ہے وہ زندگی جو قرآن و حدیث میں تامل و غور کرنے میں گزر جائے اور مبارک ہے وہ موت جو قرآن و حدیث کی خدمت میں آئے ﷲنصیب کرے۔ (دوسرا وہ شخص جسےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مال دیا وہ رات دن اس سے خیرات کرتا ہے۔)چونکہ خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے افضل ہے،اس لیے یہاں رات کا ذِکر دن سے پہلے ہوا یعنی وہ مالدار خفیہ بھی خیرات کرے اور علانیہ بھی،خیال رہے کہ سنت کی نیت سے اپنے اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔“مدنی گلدستہ’’صدقہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حسد میں یہ آرزو ہوتی ہے کہ دوسرے کو جو نعمت ملی وہ اسے نہ ملتی یا اُس سے وہ نعمت چلی جائے جبکہ رشک میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے کو جو نعمت ملی ہے ویسی مجھے بھی مل جائے ۔
(2) حسد حرام جبکہ رشک دنیاوی اُمور میں مباح اور نیکی کے کاموں میں مستحب ہے۔
(3) خفیہ خیرات علانیہ خیرات سے افضل ہے۔
(4) سنت کی نیت سے اپنے اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا بھی خیرات میں داخل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوب قرآن پڑھنے اور خیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 997