Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 631

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:اِنَّ مِنْ اَحَبِّكُمْ اِليَّ ،وَاَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ، اَحَاسِنَكُم اَخْلاَقًا، وَاِنَّ اَبْغَضَكُمْ اِلَيَّ وَاَبْعَدَكُمْ مِنِّي يَوْمَ القِيَامَةِ، اَلثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُوْنَ،قَالُوْا:يَا رَسُولَ اللهِ،قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ،فَمَا الْمُتَفَيْهِقُوْنَ؟ قَالَ:اَلْمُتَكَبِّرُونَ.

عن جابر رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان من احبكم الي ،واقربكم مني مجلسا يوم القيامة، احاسنكم اخلاقا، وان ابغضكم الي وابعدكم مني يوم القيامة، الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون،قالوا:يا رسول الله،قد علمنا الثرثارون والمتشدقون،فما المتفيهقون؟ قال:المتكبرون.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ ہو ں گےجو زیادہ بولنے والے،زبان درازی کرنے والے اوربڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والےہوں گے۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ بولنے والے اورزبان درازی کرنے والے کو تو ہم نے جان لیالیکن یہبڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والےکون لوگ ہیں؟ اِرشاد فرمایا:’’تکبر کرنے والے۔‘‘

شرح حدیث

محبوب اور مبغوض لوگ:دلیل الفالحین میں ہے:’’حدیث مذکور سے ایک اُصول معلوم ہوا کہ اِیمان والے اِیمان کی وجہ سے مَحبوب ہیں مگر ان میں اَچھائی و بُرائی کی صفت کی وجہ سے اُن کے درجات مختلف ہیں اسی طرح بُری صفات کی وجہ سے لوگ بُرے اور مبغوض ہوجاتے ہیں،جس میں برائیاں زیادہ وہ اتنا ہی زیادہ مبغوض وناپسنداورجس کی برائیاں کم اس پر غضب بھی کم، بلکہ بعض اوقات تو ایک آدمی ایک لحاظ سے محبوب ہوتا ہے اور دوسرے لحاظ سے مبغوض، اب اس اصول کو دیکھتے ہوئے تمام مومنین بحیثیتِ مومن نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو محبوب ہیں اور ان میں بہترین اخلاق والے سب سے زیادہ محبوب ہیں ،اسی طرح نافرمان لوگ بحیثیت نافرمانی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ناپسند ہیں مگر اُن میں جو بداَخلاق ہو وہ زیادہ ناپسند ہے۔حضرت سَیِّدُنَا عَبدُاللّٰہبن مُبارکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک کشادہ رُو ہونا،نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا،زبان سے اچھی بات کی نصیحت کرنا، خوب سخاوت کرنا، ہاتھ کے ذریعے نیک کام کرنا،اپنے قول و فعل سے دوسروں کو تکلیف نہ دینا حُسنِ خلق ہے ۔ مَحاسِن اَخلاق کو اِس آیت مبارکہ میں جمع کردیا گیا ہے:خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)(پ۹،الاعراف:۱۹۹)ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔
یعنی دوسروں کو معاف کردینا،بھلائی کا حکم دینا اورجاہلوں سےاعراض کرنا حسن خلق ہے۔‘‘علامہ ابن حجر عسقلانی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”اچھائی اختیار کرنے اور بُرائی چھوڑنے کا نام حسن خلق ہے۔‘‘ علامہ ابوولید باجیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْہَادِیفرماتے ہیں:”اپنے ہم نشینوں اور ساتھیوں کےساتھ کشادہ رُوئی، بُردباری،شفقت ومحبت کا مظاہرہ کرنا،استقامت کے ساتھ علم حاصل کرنا اور چھوٹے بڑے سے محبت سے پیش آنے کا نام حُسنِ خلق ہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’(اچھے اخلاق والے مصطفےٰ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومحبوب ہیں ) کیونکہ خوش خلق آدمی اکثر نیک اعمال زیادہ کرتا ہے گناہ اس سے کم سرزد ہوتے ہیں۔اَخلاق سے مراد اَخلاقِ محمدی ہیں کفار پر سخت، مؤمنوں پر بہت ہی نرم۔ دیانتداری،وعدہ پورا کرنا،معاملات کا درست ہونا سب ہی خوش خلقی میں داخل ہیں۔خیال رہے کہ خوش خلقی،خوشامد میں فرق ہے،یوں بدخلقی اور اِستغناء میں فرق ہے۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے اخلاق کو سنوارنے، گناہوں سے بچنے اور نیک بننے کے لئے تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجایئے،اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمدنی ماحول کی برکت سے اعلیٰ اخلاقی اوصاف غیرمحسوس طور پر آپ کے کردار کا حصہ بنتے چلے جائیں گے، اپنے سابقہ طرزِزندگی پر غوروفکر کا موقع ملے گا اور دل حُسن ِ عاقبت کے لئے بے چین ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ارتکاب ِ گناہ کی کثرت پر ندامت محسوس ہوگی اور توبہ کی توفیق ملے گی۔ عاشقان ِ رسول کے مدنی قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں زبان پر فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ دُرُود ِ پاک جاری ہو جائے گا ، یہ تلاوتِ قرآن، حمد ِ الٰہی اور نعتِ رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عادی بن جائے گی ،بے جا غصے کی عادت ختم ہوگی اور نرمی پیداہوگی ،بے صبری کی عادت ترک کرکے صابروشاکر رہنا نصیب ہوگا، بدگمانی کی عادتِ بد نکل جائے گی اور حُسنِ ظن کی عادت بنے گی،تکبر سےجان چھوٹے گی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا،دنیاوی مال ودولت کی لالچ سے پیچھا چھوٹے گا اور نیکیوں کی حرص نصیب ہو گی، الغرض بار بار راہِ خداعَزَّ وَجَلَّمیں سفر کرنے والے کی زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہوجائےگااِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تِرا شکر مولا دیا مدنی ماحول …… نہ چھوٹے کبھی بھی خدا مدنی ماحول
یہاں سنتیں دیکھنے کو ملیں گی …… دِلائے کا خوفِ خدا مدنی ماحول
تو آ بے نمازی، ہے دیتا نمازی …… خدا کے کرم سے بنا مدنی ماحول
اے بیمارِ عصیاں تو آ جا یہاں پر …… گناہوں کی دے گا دوا مدنی ماحول
شفائیں ملیں گی، بلائیں ٹلیں گی …… یقیناً ہے برکت بھرا مدنی ماحول
گنہگارو آؤ، سِیَہ کارو آؤ …… گناہوں کو دے گا چُھڑا مدنی ماحول
مدنی گلدستہ’’محمد ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اچھے اخلاق والے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سب سے زیادہ محبوب ہیں اوربروزِ قیامت بھی انہیں ہی سب سے زیادہ قُربِ مصطفےٰ نصیب ہو گا۔
(2) زیادہ بولنے والے، منہ پھٹ اور تکبر سے گفتگو کرنے والے بارگاہِ مصطفےٰ میں ناپسندیدہ ہیں ۔
(3) تمام مومنین بحیثیت مومن نبی کریم رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو محبوب ہیں اور ان میں بہترین اَخلاق والے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
(4) جو جتنا زیادہ بُرائیوں میں ملوث ہو وہ اتنا ہی زیادہ ناپسندکیا جاتاہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بداَخلاقی سے بچائے اور حسن اَخلاق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 631