Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 630

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ الْبَاهِليِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَنَا زَعِيمٌ بِبَـيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ،وَاِنْ كَانَ مُحِقًّا،وَبِبَيْتٍ في وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ،وَاِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ في اَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.

عن ابي امامة الباهلي رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:انا زعيم ببـيت في ربض الجنة لمن ترك المراء،وان كان محقا،وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب،وان كان مازحا، وببيت في اعلى الجنة لمن حسن خلقه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو اُمامہ باہِلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا نہ کرے میں اسے جنت کے ایک گوشہ میں مکان کی ضمانت دیتا ہوں اور جو مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اسےوسط جنت میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اور حُسنِ اخلاق والے کو جنت کے اعلیٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکورمیں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین اعمال پر جنت کی ضمانت ارشاد فرمائی ان میں سے پہلا عمل یہ ہے کہ کوئی شخص حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑا نہ کرے یعنی یہ مظلوم ہےاور اپنا حق لینے کے لئے لڑائی جھگڑا کر سکتا تھا لیکن محضاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لئے لڑائی جھگڑا نہ کرے توایسےشخص کے لئے جنت کے ایک گوشے میں جنتی گھر ضمانت ہے۔اور مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولےاس کے لئے جنت کے وسط میں جنتی گھر کی ضمانت ہےاور حُسنِ اَخلاق والے کو جنت کے سب سے اعلیٰ مقام میں جنتی گھر کی ضمانت ہے۔جس طرح حُسنِ اَخلاق اپنانا نفس پر دشوار ہے ایسے ہی اس کی جزا بھی سب سے زیادہ ہے۔حضرت سيّدنا ابرا ہیم بن اَدھمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہيں :”دنيا میں جو عمل جتنا دشوار ہوگا بروزِ قيامت ميزانِ عمل میں وہ اُتنا ہی زيادہ وَزْن دار ہوگا۔“خوش خلقی کا سب سے اعلیٰ درجہ:مرآۃ المناجیح میں ہے :” جو کوئی لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اپنا حق بھی ظاہر نہ کرے یعنی حق پر ہو مگر اُس پر لڑے نہیں اس کا گھر جنت یعنی جنت کے اعلیٰ درجہ میں ہوگا۔یہاں حق سے مراد دُنیاوی حقوق ہیں نہ کہ دینی حقوق اگر کسی مسلمان نے کسی کی زمین یا قرض مار لیا یہ لڑائی سے بچنے کے لیے پیچھے نہ پڑا۔ صبر کر کے بیٹھ گیا بڑے درجے والا ہے مگر جو دِینِ حق کو بربادکرنا چاہے اس کا مقابلہ بقدرِ طاقت زبان، قلم، تلوار سے ضرور کرے۔سُبْحَانَ اللّٰہخوش خلقی کا درجہ سب سے اعلیٰ ہے کہ اس سے جنت الفردوس نصیب ہوتی ہے مگر حُسنِ خلق کے لیے کوشش بھی کرے رب سے دعا بھی۔مدنی گلدستہ’’اجمیر ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا ختم کرنے والے ،مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولنے والے اور حُسن اَخلاق والے کے لئے جنت کی بشارت ہے ۔لہٰذا ان صفات کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
(2) حُسنِ اَخلاق والے کے لئے جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے ۔
(3) جو عمل جس قدر دشوار ہوتا ہے اس کی جزا بھی اس قدر زیادہ ہوتی ہے۔
(4) حسن اَخلاق کے حُصُول کیلئے کوشش بھی کرنی چاہیے اور بارگاہِ اِلٰہی میں دعا بھی کرنی چاہیے۔
(5)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جنت کا مالک ومختار بنایا ہے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجسے چاہتےہیں جنت عطا فرماتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حُسنِ اَخلاق اپناتے ہوئے لڑائی جھگڑاکرنے اور جھوٹ بولنے سے محفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 630