Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 628

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَكْمَلُ الْمُؤمِنِينَ اِيمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اكمل المؤمنين ايمانا احسنهم خلقا، وخياركم خياركم لنسائهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کامل ایمان والےوہ ہیں جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

اَخلاق کے ساتھ کمالِ اِیمان:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جیسے جیسے بندے کے اَخلاق اچھے ہوتے ہیں اُس کے اِیمان میں کمال پیدا ہوتا ہےاور بہترین شخص وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا برتاؤ کرتاہو یعنی خَندہ پیشانی سے ملنےوالا، ہنس مکھ،سخی ، بیوی کوایذانہ دینے والا،اس کی طرف سے ملنے والی ایذا پر صبر کرنے والااور اِن جیسی دیگر اچھی عادات کا مالک ہو۔‘‘مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اچھی عادت سے عبادات اور معاملات دونوں درست ہوتے ہیں، اگر کسی کے معاملات تو ٹھیک مگر عبادات درست نہ ہوں یا اس کے اُلٹ ہو تو وہ اچھے اخلاق والا نہیں،خوش خلقی بہت جامع صفت ہے کہ جس سے خالق اور مخلوق سب راضی رہیں وہ خوش خلقی ہے۔“حُسنِ اَخلاق کا پہلا امتحان:مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1286 صفحات پر مشتمل کتاب ’’اِحیاء العلوم ‘‘جلد 3 صفحہ 215 پر امام محمد بن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیحُسنِ اَخلاق کے بارے میں لکھتے ہیں : ”حُسنِ اَخلاق کا پہلا اِمتحان اَذِیَّت پر صبر کرنا اورظلم برداشت کرناہے جو دوسروں کی بداَخلاقی کی شکایت کرتاہے تو یہ بات خود اس کی اپنی بداَخلاقی پر دلالت کرتی ہےکیونکہ حُسنِ اَخلاق تو اَذِیَّت برداشت کرنے کا نام ہےجیسا کہ حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ میں رحمتِ عالَم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جا رہا تھا ،آپ نے موٹی دھاریوں والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی،راستے میں آپکو ایک اعرابی ملا اس نے آپ کی مبارک چادر کوپکڑ کرزور سے کھینچاتو میں نے دیکھاکہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک گردن پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے، پھر اس اَعرابی نے تلخ لہجے میں کہا:اپنے پاس موجوداللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے مال میں سےمجھے کچھ دیجئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس اَعرابی کی طرف متوجہ ہوکرمسکرانے لگے پھر اس کے لئے کچھ مال دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ یوں ہی جب قریش نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بہت زیادہ تکلیف پہنچائی اورآپ کولَہُو لُہَان کیاگیاتو آپ نے یہ دعا فرمائی:’’اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میری قوم کو معاف فرماکہ یہ لوگ مجھے نہيں جانتے۔‘‘منقول ہے کہ یہ دعا آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوۂ اُحد کے دن فرمائی تھی اسی لئےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے متعلق یہ آیتِ مُقَدَّسہ نازل فرمائی: (وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) ∞)(پ۲۹، القلم:۴) ترجمۂ کنزالایمان:’’اوربے شک تمہاری خُوبُوبڑی شان کی ہے۔‘‘حُسنِ اخلاق کی علامات:کسی صاحبِِ علم نے حُسنِ اَخلاق کی علامات کو جمع کرتےہوئے فرمایا:حُسنِ اَخلاق کاپیکر وہ ہے جوزیادہ حیا والا،کسی کو اَذِیَّت نہ دینے والا،نیک اعمال بجالانے والا،سچ بولنے والا،کم گو،زیادہ عمل کا عادی،لَغْزِشَوں سے حتَّی الْامکان بچتااورفُضُول گُفْتگُوسے پرہیز کرتاہو،نیک،پُروقار،صابر،رضائے الٰہی پرراضی،شکر گزار، بُردبار،نرم طبیعت،پاکدامن اورشفیق ہو،لعنت کرنے والا،گالیاں دینے والا،غیبت کرنے والا،جلدباز،کینہ پَروَر،بخیل اورحاسد نہ ہو بلکہ ہشاش بشاش رہتا ہو،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطر محبت اوربغض رکھنے والا اوراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خاطرہی کسی سے راضی اورناراض ہونے والا ہو۔مدنی گلدستہ’’صِدِّیقِین ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جیسے جیسے انسان کے اخلاق اچھے ہو تے جاتے ہیں ویسے ہی اس کے ایمان میں کمال پیدا ہوتا ہے ۔
(2) سرکار
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماذیت دینے والوں کو بھی دعاؤں سے نوازتے تھے۔
(3) اچھی عادات سے عبادات ومعاملات کی درستی اور خالق ومخلوق کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
(4) حُسنِ اَخلاق کا پہلا اِمتحان اَذِیَّت پر صبر کرنا اور ظلم برداشت کرناہے۔
(5) شرم وحیا ،کم گوئی ، صبر وشکر، پاکدامنی ، سچائی،بردباری اور دیگر اچھی صفات حسن اَخلاق کی علامت ہیں۔
(6) دوسروں کی بد اَخلاقی کی شکایت کرنے کی بجائے اپنی بد اَخلاقی پر غور کرنا چاہیے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے اخلاق سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 628