Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 623

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الصَّعْبِ بِنِْ جَثَّامَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ،قَالَ:اَهْدَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَاٰ ى مَا فِي وَجْهِي،قَالَ:اِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ اِلاَّ اَنَّا حُرُمٌ.

عن الصعب بن جثامة رضی اللہ عنہ،قال:اهديت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حمارا وحشيا، فرده علي ، فلما را ى ما في وجهي،قال:انا لم نرده عليك الا انا حرم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا صَعْب بن جَثامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں ایک گورخر( وحشی گدھا)بطورِ ہدیہ پیش کیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واپس لوٹا دیا۔جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے چہرے پر پریشانی دیکھی تو فرمایا: ’’ہم نے یہ اس لئے واپس کیا ہے کہ ہم حالتِ احرام میں ہیں ۔‘‘

شرح حدیث

مسلمانوں کی دلجوئی :عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ”رحمتِ عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت صَعْب بن جَثامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی تسکین یا تسلی کے لئے تحفہ قبول نہ کرنے کی وجہ بیان کی اور فرمایاکہ ہم اِحرام میں ہیں اس لئے تمہارا ہدیہ لوٹارہے ہیں ۔“یہ بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حُسنِ خلاق میں سے ہے کہ اپنے صحابی کی پریشانی دیکھ کر ان کی دلجوئی فرمائی اور پریشانی دور فرما دی ۔حضرتِ سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے کسی مو من کی دُنیوی پریشانیوں میں سے کوئی ایک پریشا نی دور کی،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کی پریشانیو ں میں سے اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔“تحفہ واپس کرنے کی وجہ :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں:”بعض روایات میں ہے کہ زندہ جانور پیش کیا تھا اور بعض میں ہے کہ ذبح کرکے اس کا کوئی عضوپاؤں سرین وغیرہ، ہوسکتا ہے کہ پہلے زندہ گورخر پیش کیا ہو بعد میں ذبح کرکے اس کا کوئی عضو ،لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں،حِمارِ وَحشی کا فارسی میں نام گورخَر ہے اردو میں بھی یہی ہے۔( جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کنے اپنے صحابی کورنجیدہ دیکھا تو فرمایاکہ ہم احرام میں ہیں) یعنی جب حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کا شکار واپس کیا تو انہیں رنج ہوا جس کا اثر ان کے چہرے پرمحسوس ہوا تب حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کی تسلی اس ارشاد عالی سے فرمادی۔اگر زندہ شکار کو واپس فرمایا ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ مُحْرِم کو زندہ شکار نہ پکڑنا درست ہے نہ پکڑا ہوا رکھنا یاذبح کرنا درست ہے اور اگر اس کا گوشت واپس فرمایا ہے تواحناف کے ہاں اس لیے رد فرمایا کہ اس شکار میں کسی محرم نے کوئی مدد کی تھی اور حضور انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اس کا پتہ تھا،یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمجب’’ ابواء‘‘(کے مقام پر ) پہنچے تو حضرت صعب نے حضور کی میزبانی اس طرح کی جس کا نتیجہ یہ ہوا۔“مدنی گلدستہ’’حسن‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) تحفہ قبول کرنا سنت مبارکہ ہے لیکن عذرِصحیح کی وجہ سے لوٹانا بھی درست ہے ۔
(2) اگر ہمارے کسی قول و فعل سےکسی مسلمان کو اُلجھن یا پریشانی لاحق ہوتو وضاحت کر کے اس کی پریشانی دور ی کر نا بھی حسنِ اخلاق میں سے ہے ۔
(3) اپنے متعلقین کی حالت پر نظر رکھیں کسی کو خوش دیکھیں تو خوشی میں اس کا ساتھ دیں ، کسی کو پریشان دیکھیں تو بقدرِ وُسعت اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کریں کہ یہ حُسنِ خُلْق کی علامت ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنے اور دوسروں کی پریشانی دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 623