Main Icon

باب:اچھے اَخلاق کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 627

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ:تَقْوَى اللهِ وَحُسنُ الْخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ:اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال:سئل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن اكثر ما يدخل الناس الجنة ؟ قال:تقوى الله وحسن الخلق، وسئل عن اكثر ما يدخل الناس النار، فقال:الفم والفرج.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایسا کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے لوگ بکثرت جنت میں داخل ہوں گے؟فرمایا:’’اللّٰہتعالیٰ کا خوف اور حُسنِ اخلاق ۔‘‘پھر اس چیزکے بارے میں پوچھا گیا جس کی وجہ سے بکثرت لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو فرمایا :’’زبان اور شرمگاہ۔‘‘

شرح حدیث

معاملات کی درستی:دلیل الفالحین میں ہے:”تقویٰ بندے اور رب کے درمیان کے معاملات کو درست کرتا ہے اور حُسنِ خلق بندے اور مخلوق کے درمیان کے معاملات کو درست کرتا ہے۔زبان اور شرمگاہ کی وجہ سے بہت سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گےکیونکہ زبان سے کفر،غیبت ،چغلی،حق کو جھٹلانا،باطل کی اِبتدا کرنا وغیرہ صادر ہوتے ہیں اور شرمگاہ سے زنا اور لواطت جیسے قبیح گناہ صادر ہوتے ہیں۔“تقویٰ و حُسنِ اخلاق:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بدعقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے بچنا،اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔یوں ہی خوش خلقی کا ادنی درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی، مالی،عزت کی ایذا نہ دے،اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بُرائی کا بدلہ بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالیٰ نصیب کرے۔( زبان وشرمگاہ کی وجہ سے بکثرت لوگ جہنم میں جائیں گے کیونکہ)انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلییں کرتا ہے،نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں۔شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دِین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے۔“اچھے اَخلاق والا عرش کے سائے میں :حضرت سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ تاجدارِمدینہ،سرورِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سَیِّدُنَاابراہیمخَلِیْلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ اے میرے خلیل!حُسنِ اَخلاق سے پیش آؤ خواہ کفار ہی کیوں نہ ہوں،نیکوں میں داخل ہو جاؤگے اور بے شک میں نے یہ بات لکھ دی ہے کہ جس نے اپنے اخلاق کوسُتھراکیا میں اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گااوراسے جنت سے سیراب کروں گا اور اپنی رحمت کا قُرب عطا فرماؤں گا۔“مدنی گلدستہ’’جبریل ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
اللّٰہتعالیٰ کے خوف اور حُسنِ اَخلاق کی وجہ سے بکثرت لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
(2) تقوی ٰ بندے اور ربّ کے جبکہ حُسنِ خُلق بندے اور مخلوق کے درمیانی معاملات درست کرتا ہے۔
(3) حُسنِ اَخلاق سے پیش آنے والے کو
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّاپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
(4) شہوت عقل کو مغلوب اور دِین کو برباد کردیتی ہےاِس کی وجہ سے بکثرت لوگ جہنم میں جائیں گے ۔
(5) تقویٰ کا ادنیٰ درجہ کفر و شرک سے بچنااور اعلیٰ درجہ یادِالٰہی سے غافل کرنے والی ہر چیز سے بچناہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تقویٰ،حُسنِ اَخلاق اورخاتمہ بالخیر کی دولت سے مالا مال فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 627