باب:اچھے اَخلاق کابیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے ۔ “

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَسولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم اَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقاً.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 621 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے حضورنبی کریم،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دَستِ مُبارک سے زیادہ نرم کسی ریشمی کپڑے کو نہیں چُھوااور نہ میں نےکوئی ایسی خوشبو سونگھی جو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے آنے والی خوشبو سے زیادہ اچھی ہو۔میں نے دس سال تک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے کبھی’’اُف‘‘ تک نہ فرمایااور کسی کام کے کرنے پر کبھی یہ نہ فرمایاکہ:یہ کام کیوں کیا؟ اور کوئی کام نہ کرنے پر کبھی یہ نہ فرمایا کہ: یہ کام کیوں نہیں کیا؟“

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:مَا مَسِسْتُ دِيبَاجاً وَلَا حَرِيرًا اَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،وَلَا شَمَمْتُ رَائِحَةً قَطُّ اَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسولِ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم.وَلَقَدْ خَدَمْتُ رَسولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَشْرَ سِنِيْنَ، فَمَا قَالَ لِي قَطُّ:اُفٍّ، وَلَا قَالَ لِشَيءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟ وَلَا لِشَيءٍ لَمْ اَفْعَلْهُ:اَلَا فَعَلْتَ كَذَا؟

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 622 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنَا صَعْب بن جَثامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں ایک گورخر( وحشی گدھا)بطورِ ہدیہ پیش کیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واپس لوٹا دیا۔جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے چہرے پر پریشانی دیکھی تو فرمایا: ’’ہم نے یہ اس لئے واپس کیا ہے کہ ہم حالتِ احرام میں ہیں ۔‘‘

عَنِ الصَّعْبِ بِنِْ جَثَّامَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ،قَالَ:اَهْدَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيَّ ، فَلَمَّا رَاٰ ى مَا فِي وَجْهِي،قَالَ:اِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ اِلاَّ اَنَّا حُرُمٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 623 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنا نواس بن سَمعانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’نیکی حُسنِ اخلاق کانام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا آگاہ ہونا تجھے نا پسند ہو ۔ ‘‘

عَنِِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: سَاَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنِ الْبِرّ ِ والْاِ ثْمِ فَقَالَ:اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ،وَالْاِ ثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ،وَكَرِهْتَ اَن يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 624 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ طبعاً فُحش گو تھے اور نہ ہی تکلُّفاً فُحش کلام کرنے والے اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمایا کرتے تھے کہ:”تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اَخلاق سب سے اچھے ہوں ۔“

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهُ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا،وَكَانَ يَقُولُ: اِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ اَحْسَنَكُمْ اَخْلاَقًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 625 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بروزِ قیامت مومن کے میزان میں حُسنِ اَخلاق سے بڑھ کر کوئی چیز وزنی نہ ہوگی اور بیشکاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بد خلق اورفحش گوبندہ ناپسند ہے ۔‘‘

عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ اَثْقَلُ في مِيْزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ حُسْنِِ الْخُلُقِ،وَاِنَّ الله يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيَّ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 626 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا گیا کہ ایسا کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے لوگ بکثرت جنت میں داخل ہوں گے؟فرمایا:’’اللّٰہتعالیٰ کا خوف اور حُسنِ اخلاق ۔‘‘پھر اس چیزکے بارے میں پوچھا گیا جس کی وجہ سے بکثرت لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو فرمایا :’’زبان اور شرمگاہ۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ:تَقْوَى اللهِ وَحُسنُ الْخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ:اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 627 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کامل ایمان والےوہ ہیں جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَكْمَلُ الْمُؤمِنِينَ اِيمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 628 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:” میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:’’بےشک مومن اپنے اچھے اَخلاق کی بدولت دن بھر روزہ رکھنے والےاور رات بھر عبادت کرنے والے کادرجہ پا لیتا ہے ۔‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہَا ، قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم يَقُوْلُ:اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُدْرِكُ بحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الصَّائِـمِ الْقَائِـمِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 629 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرت سَیِّدُناابو اُمامہ باہِلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جو حق پر ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑا نہ کرے میں اسے جنت کے ایک گوشہ میں مکان کی ضمانت دیتا ہوں اور جو مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اسےوسط جنت میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں اور حُسنِ اخلاق والے کو جنت کے اعلیٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔“

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ الْبَاهِليِّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:اَنَا زَعِيمٌ بِبَـيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ،وَاِنْ كَانَ مُحِقًّا،وَبِبَيْتٍ في وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ،وَاِنْ كَانَ مَازِحًا، وَبِبَيْتٍ في اَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 630 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان

حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ ہو ں گےجو زیادہ بولنے والے،زبان درازی کرنے والے اوربڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والےہوں گے۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کیا :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ بولنے والے اورزبان درازی کرنے والے کو تو ہم نے جان لیالیکن یہبڑھا چڑھا کر باتیں کرنے والےکون لوگ ہیں؟ اِرشاد فرمایا:’’تکبر کرنے والے۔‘‘

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:اِنَّ مِنْ اَحَبِّكُمْ اِليَّ ،وَاَقْرَبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا يَوْمَ القِيَامَةِ، اَحَاسِنَكُم اَخْلاَقًا، وَاِنَّ اَبْغَضَكُمْ اِلَيَّ وَاَبْعَدَكُمْ مِنِّي يَوْمَ القِيَامَةِ، اَلثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ وَالمُتَفَيْهِقُوْنَ،قَالُوْا:يَا رَسُولَ اللهِ،قَدْ عَلِمْنَا الثَّرْثَارُوْنَ وَالمُتَشَدِّقُونَ،فَمَا الْمُتَفَيْهِقُوْنَ؟ قَالَ:اَلْمُتَكَبِّرُونَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 631 ، باب:اچھے اَخلاق کابیان